انگلینڈ نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر 150 رنز بنائے۔ کپتان نیٹ اسکیور برنٹ نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 58 رنز اسکور کیے، جبکہ فریا کیمپ نے آخر میں جارحانہ انداز اپناتے ہوئے 28 گیندوں پر ناقابل شکست 44 رنز بنا کر ٹیم کا مجموعہ 150 تک پہنچایا۔

151 رنز کے ہدف کے تعاقب میں آسٹریلیا کی پہلی وکٹ جلد گر گئی، تاہم فوبی لیچ فیلڈ اور بیتھ مونی نے دوسری وکٹ کی شاندار 100 رنز کی شراکت قائم کر کے انگلینڈ کی تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ لیچ فیلڈ 48 رنز بنا کر آؤٹ ہوئیں، جبکہ بیتھ مونی نے 64 رنز کی عمدہ اننگز کھیل کر ٹیم کو فتح کے دہانے تک پہنچا دیا۔

میچ کے آخری لمحات میں اس وقت تنازع کھڑا ہوا جب انگلینڈ کی اسپنر سوفی ایکلسٹون نے ایلیس پیری کا کیچ لیا، مگر ٹی وی امپائر نے فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے پیری کو ناٹ آؤٹ قرار دے دیا۔ اس فیصلے پر لارڈز میں موجود ہزاروں شائقین نے احتجاج کیا، تاہم اس سے میچ کے نتیجے پر کوئی فرق نہ پڑا۔

آسٹریلیا نے 18ویں اوور میں ہدف حاصل کرتے ہوئے سات وکٹوں سے کامیابی اپنے نام کر لی اور پورے ٹورنامنٹ میں ناقابل شکست رہتے ہوئے ایک اور عالمی اعزاز اپنے نام کر لیا۔

بیتھ مونی کو فائنل میں شاندار بیٹنگ پر میچ کی بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا، جبکہ آسٹریلیا نے مختلف فارمیٹس میں اپنا 14واں عالمی ٹائٹل جیت کر خواتین کی کرکٹ میں اپنی برتری مزید مستحکم کر دی۔

مزید پڑھیں: دوسرا ٹی ٹوئنٹی: انگلینڈ نے انڈیا کو 4 وکٹوں سے شکست دے دی

دوسری جانب، انگلینڈ کے لیے یہ شکست مایوس کن ضرور رہی، تاہم کوچ شارلٹ ایڈورڈز کی قیادت میں ٹیم نے نمایاں بہتری کا مظاہرہ کیا اور مسلسل تین عالمی ایونٹس کے بعد پہلی بار کسی عالمی ٹورنامنٹ کے فائنل تک رسائی حاصل کی۔ اب انگلینڈ کی نظریں اگلے سال اپنے ہی میدانوں میں کھیلی جانے والی ایشز سیریز پر مرکوز ہوں گی، جہاں وہ آسٹریلیا کے خلاف حساب برابر کرنے کی کوشش کرے گا۔