محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ ہیٹ ڈوم کی وجہ سے بعض علاقوں میں ہیٹ انڈیکس 40 سے 48 ڈگری تک پہنچ سکتا ہے، جبکہ یہ صورتحال امریکا کے یومِ آزادی (4 جولائی) کی تعطیلات تک برقرار رہنے کی توقع ہے۔
شدید گرمی کے اثرات ٹورنٹو، کنساس سٹی، فلاڈیلفیا اور نیو جرسی میں کھیلے جانے والے میچوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ ماہر موسمیات ایلن ریپرٹ کے مطابق سورج غروب ہونے کے بعد بھی موسم غیر معمولی حد تک گرم رہے گا، جس سے شام کے اوقات میں ہونے والے میچ بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
گرمی کی شدت کے پیشِ نظر کھلاڑیوں کی حفاظت ایک بار پھر موضوع بحث بن چکی ہے۔ فیفا نے اس ورلڈ کپ میں ہر میچ کے دونوں ہاف میں تین منٹ کے لازمی ہائیڈریشن بریک متعارف کرائے ہیں تاکہ کھلاڑی پانی پی سکیں اور گرمی کے اثرات سے محفوظ رہیں۔ تاہم بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے کھیل کا تسلسل متاثر ہوتا ہے۔
ادھر ٹورنٹو میں محکمہ ماحولیات کی جانب سے گرمی کی وارننگ جاری ہونے کے بعد مقامی انتظامیہ نے "ہیٹ ریلیف اسٹریٹجی" نافذ کر دی ہے تاکہ شائقین کو ٹھنڈک اور پانی کی سہولت فراہم کی جا سکے۔
دوسری جانب اٹلانٹا، ڈلاس اور ہیوسٹن کے وہ اسٹیڈیم جہاں میچز شیڈول ہیں، جدید ایئر کنڈیشننگ اور بند ہونے والی چھتوں سے لیس ہیں، جس سے اندرونی ماحول نسبتاً محفوظ رہے گا۔ تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اسٹیڈیم تک پیدل سفر کے دوران بھی گرمی شدید محسوس ہوگی۔
مزید پڑھیں: بھارت کے خلاف تاریخی جیت، آئرلینڈ کے ہیڈ کوچ نے عہدہ چھوڑ دیا
نیو جرسی کے ہیکنسیک یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کی ایمرجنسی فزیشن ڈاکٹر علینا میٹینا نے شائقین کو ہدایت کی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ سایہ دار مقامات پر رہیں، پانی کا استعمال بڑھائیں اور چکر آنا یا دیگر علامات ظاہر ہونے پر فوری طبی امداد حاصل کریں۔
شدید گرمی کے اس نئے امتحان نے ورلڈ کپ کے دوران کھلاڑیوں اور شائقین کی حفاظت کے لیے مزید احتیاطی اقدامات کی ضرورت کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے۔






