امریکہ 2026 کا فیفا ورلڈ کپ کینیڈا اور میکسیکو کے ساتھ مشترکہ طور پر منعقد کر رہا ہے، جس میں پہلی مرتبہ ٹیموں کی تعداد 32 سے بڑھا کر 48 کر دی گئی ہے۔ دوسری جانب فیفا 2030 سے ہی ورلڈ کپ میں 64 ٹیموں کی شمولیت کی تجویز پر بھی غور کر رہا ہے۔
اینڈریو جیولیانی کا کہنا تھا کہ اگر مستقبل میں ورلڈ کپ 64 ٹیموں تک بھی پھیل جاتا ہے تو امریکہ اس کی میزبانی کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ پہلے 19 جولائی کو اختتام پذیر ہونے والے موجودہ ورلڈ کپ کو کامیابی سے مکمل ہونے دیا جائے، اس کے بعد 2038 یا آئندہ کسی اور ورلڈ کپ کی میزبانی کے حوالے سے بات ہوگی
2038 کا ورلڈ کپ اگلا ایونٹ ہوگا جس کے لیے باضابطہ بولی کا عمل شروع کیا جائے گا۔ 2030 کا ورلڈ کپ اسپین، پرتگال اور مراکش مشترکہ طور پر منعقد کریں گے، جبکہ ٹورنامنٹ کے ابتدائی تین میچ ورلڈ کپ کے 100 سال مکمل ہونے کی مناسبت سے یوروگوئے، ارجنٹینا اور پیراگوئے میں کھیلے جائیں گے۔ 2034 کے ورلڈ کپ کی میزبانی سعودی عرب کرے گا۔
رواں موسمِ گرما کے ورلڈ کپ کے دوران، جس کے 104 میں سے 78 میچ امریکہ میں کھیلے جا رہے ہیں، جس کے اندر کئی متنازع معاملات بھی سامنے آئے۔
اپریل میں انسانی حقوق کی 120 سے زائد تنظیموں نے شائقین، کھلاڑیوں، صحافیوں اور دیگر مسافروں کے لیے مشترکہ سفری ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی سخت امیگریشن پالیسیوں کے باعث امریکہ کا سفر کرتے وقت احتیاط برتی جائے۔
ورلڈ کپ کے دوران امریکہ میں سفری اخراجات میں اضافے پر بھی تنقید کی گئی۔
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث ایرانی ٹیم کے معاون عملے کے بعض ارکان کو امریکی ویزے نہیں مل سکے، جس کے بعد ایران نے ورلڈ کپ کے لیے اپنا بیس ایریزونا سے میکسیکو کے شہر تیخوانا منتقل کر دیا، جبکہ ٹیم کو اپنے سفر کے دوران سخت پابندیوں کا سامنا بھی ہے۔
ان تمام معاملات کے باوجود اینڈریو جیولیانی کا کہنا ہے کہ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے دوبارہ ورلڈ کپ کی میزبانی کے حوالے سے بات کی ہے۔
مزید پڑھیں: لیاری میں فٹبال میچز کروائیں، فیفا کو خط ارسال
ان کے مطابق، ورلڈ کپ کی میزبانی کے لیے امریکہ سے بہتر کوئی ملک نہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی اس کی جھلک نظر آ رہی ہے اور پہلی بار یا طویل عرصے بعد امریکہ آنے والے شائقین ملک کے خوش آئند ماحول اور مضبوط انفراسٹرکچر کو سراہ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کے اسٹیڈیم پہلے سے موجود ہیں، اس لیے دیگر میزبان ممالک کے برعکس، جہاں اس مقصد کے لیے دسیوں ارب ڈالر خرچ کرنا پڑتے ہیں، امریکہ کو صرف چند ارب ڈالر خرچ کرنا پڑے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ کی 250ویں سالگرہ کے موقع پر دنیا بھر کے لوگوں کی امریکہ سے محبت دیکھنا خوش آئند ہے اور یہ ان کے لیے باعثِ اطمینان ہے۔







