ارجنٹائن، جو تین مرتبہ ورلڈ چیمپئن اور 16 مرتبہ کوپا امریکہ کا فاتح رہ چکا ہے، فیفا رینکنگ کی صفِ اول کی ٹیموں میں شمار ہوتا ہے۔ دوسری جانب کیپ وردے نے اپنے پہلے ہی ورلڈ کپ میں شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے اسپین، یوروگوئے اور سعودی عرب کے خلاف اہم نتائج حاصل کیے اور ناک آؤٹ مرحلے تک رسائی حاصل کرکے سب کو حیران کر دیا۔

کیپ وردے، جس کی آبادی صرف ساڑھے پانچ لاکھ کے قریب ہے، ورلڈ کپ کی تاریخ کا ناک آؤٹ مرحلے تک پہنچنے والا سب سے چھوٹا ملک بن گیا ہے۔ یہ ملک 1975 تک پرتگال کی کالونی رہا اور اس کی فٹبال فیڈریشن 1982 میں قائم ہوئی، جبکہ پہلی مرتبہ 2013 میں افریقہ کپ آف نیشنز میں شرکت کی تھی۔

مالی اعتبار سے بھی دونوں ٹیموں میں واضح فرق موجود ہے۔ ٹرانسفر مارکیٹ کے مطابق ارجنٹائن کے اسکواڈ کی مجموعی مالیت تقریباً 807.5 ملین یورو ہے، جبکہ کیپ وردے کی پوری ٹیم کی مالیت صرف 54.5 ملین یورو ہے۔ ارجنٹائن کے کئی کھلاڑیوں کی انفرادی قیمت بھی کیپ وردے کے پورے اسکواڈ سے زیادہ ہے۔

کیپ وردے کے تجربہ کار گول کیپر ووزنہا اس ٹورنامنٹ کا سب سے بڑا ٹیلنٹ بن کر سامنے آئے ہیں۔ 40 سالہ گول کیپر نے گروپ مرحلے میں شاندار سیو کرتے ہوئے اپنی ٹیم کو تاریخی کامیابیاں دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔

مزید پڑھیں:  پاکستان کا دورہ ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ، 17 رکنی ٹیسٹ اسکواڈ کو حتمی شکل دے دی گئی

فٹبال ماہرین ارجنٹائن کو اس مقابلے میں واضح فیورٹ قرار دے رہے ہیں، تاہم کیپ وردے کی غیر متوقع کارکردگی نے اس میچ کو ورلڈ کپ کے سب سے دلچسپ اور غیر یقینی مقابلوں میں شامل کر دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ لیونل میسی اپنی ٹیم کو کوارٹر فائنل تک پہنچاتے ہیں یا ووزنہا ایک اور بڑا اپ سیٹ کرکے ورلڈ کپ کی نئی تاریخ رقم کرتے ہیں۔