امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق ایران نے ان ٹینکروں کو بطور تحفہ گزرنے دیا تاکہ یہ ظاہر کیا جا سکے کہ وہ مذاکرات کے لیے سنجیدہ ہے۔

امریکی صدر نے کہاکہ تیل سے بھرے آٹھ آئل ٹینکرز (آبنائے ہرمز سے) گزرے۔انہوں نے مزید دعویٰ کیاکہ میرے خیال میں یہ پاکستانی پرچم بردار جہاز تھے۔ میں نے کہا کہ ہم درست لوگوں سے بات کر رہے ہیں۔

بعد ازاں صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران نے ماضی میں کہی گئی کسی بات پر معذرت کی اور مزید دو جہاز بھیجنے کی بات کی، جس کے بعد ٹینکروں کی مجموعی تعداد 10 ہو گئی۔

دوسری جانب برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی ویریفائی کے مطابق انہوں نے عوامی طور پر دستیاب جہازوں کی نقل و حرکت کے ڈیٹا کی بنیاد پر اس دعوے کی جانچ کی۔ رپورٹ کے مطابق 23 سے 25 مارچ کے درمیان ان جہازوں کی نشاندہی کرنے کی کوشش کی گئی جنہوں نے اپنے لوکیشن ٹرانسمیٹر کے ساتھ آبنائے ہرمز عبور کی۔

تحقیق کے دوران معلوم ہوا کہ اس عرصے میں تیل لے جانے والے پانچ جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، تاہم ان میں سے کوئی بھی پاکستانی پرچم بردار نہیں تھا۔ مزید برآں، دیگر پانچ جہاز جو اس دوران آبنائے سے گزرے، انہیں آئل ٹینکرز کے طور پر رجسٹرڈ نہیں کیا گیا تھا۔

دوسری جانب حکومتِ پاکستان نے بھی تاحال اس دعوے کی نہ تصدیق کی ہے اور نہ ہی تردید، جب کہ ایران کی جانب سے بھی اس بیان پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا کہ آیا مذکورہ جہاز پاکستانی پرچم بردار تھے یا نہیں۔

اس سے قبل ایران چین، روس، بھارت، عراق اور پاکستان جیسے دوست ممالک کے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دیتا رہا ہے، تاہم بظاہر جمعرات کو اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں کا تعلق ان ممالک سے نہیں تھا۔

رپورٹ کے مطابق ان تمام جہازوں نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے نسبتاً طویل راستہ اختیار کیا اور ایران کے جزیرۂ قشم کے قریب سے گزرتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھا۔

ماہرین کے مطابق یہ امکان موجود ہے کہ کچھ جہاز آبنائے ہرمز سے گزرتے وقت اپنا جی پی ایس سگنل بند کر دیتے ہیں، جس کے باعث ان کی مکمل تفصیلات عوامی ڈیٹا میں دستیاب نہیں ہوتیں۔