ذرائع کے مطابق رجب بٹ ایک توہینِ مذہب کے مقدمے میں کراچی کی مقامی عدالت میں پیشی کے لیے آئے تھے۔ کیس میں الزام ہے کہ سوشل میڈیا پر کی گئی بعض سرگرمیوں اور مواد کے باعث ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ عدالت میں پیشی کے دوران وکلا کے ایک گروہ نے رجب بٹ پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ان کی شرٹ پھٹ گئی۔
رجٹ بٹ کو وکلا کی طرف سے پھینٹا لگانے کی وڈیوآگئی pic.twitter.com/4pfCuuxCb6
— Ather Salem® (@Atharsaleem01) December 29, 2025
واقعے کے وقت رجب بٹ اپنے وکیل میاں علی اشفاق اور دیگر افراد کے ہمراہ عدالت میں موجود تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق تشدد کے دوران ان کے وکیل کو بھی ہراساں کیا گیا، جس پر عدالتی احاطے میں کشیدگی پیدا ہوگئی۔
یوٹیوبر رجب بٹ کی شرٹ پھٹنے کی ویڈیو دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی اور ایکس پر ٹاپ ٹرینڈ بن گئی ہے۔ سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر صارفین نے اس پر سخت ردِعمل دیا ہے۔ صحافی عادل حسین باقری نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ کراچی بار کے چند وکلا کا لاحاطہ عدالت میں سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ رجب بٹ پر کیا گیا تشدد اور اُس کے وکیل کو حراساں کیا جانا انتہائی قابل مذمت فعل ہے۔
مظہر چنگوانی صارف نے لکھا ہے کہ وکلا، ڈاکٹرز اور سیاستدانوں کو صرف ڈگری نہیں، اخلاقیات کا کورس بھی لازمی کروانا چاہیے۔ یہ لوگ صرف تعلیم یافتہ نہیں، کردار یافتہ بھی ہوں تو قوم بنے۔ ورنہ یہ تینوں طبقے، عوام کے اعتماد کے سب سے بڑے قاتل بن جاتے ہیں۔
محمد حنظلہ نامی ایک اور صارف نے کہا ہے کہ ملک بھر میں ایسے وکلاء کی بدمعاشی کی وجہ سے پورے ملک کے وکلاء کی عزت اور ساکھ بری طرح مجروح ہو رہی ہے اور یہ ہر صورت ناقابل قبول ہے۔قانون کے ساتھ کھلواڑ کرنے والے وکلاء کے خلاف سخت ایکشن ضروری ہے!
رانیہ عزیر نامی صارفہ نے ایک پوسٹر شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وکلا قانون کے محافظ ہوتے ہیں، مگر عامر نواز وڑائچ اور رحمان کورائی نے قانون کو ذاتی طاقت بنالیا ہے۔







