رپورٹس کے مطابق 2015 میں نجی فوجیوں کی تعداد 50 ہزار سے بھی کم تھی، تاہم 2026 تک یہ تعداد بڑھ کر 2 لاکھ 70 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔
اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو 2022 سے 2024 کے درمیان اس اضافے کی رفتار میں غیر معمولی تبدیلی دیکھنے میں آتی ہے، جس کی ایک بڑی وجہ روس کی جانب سے یوکرین پر حملہ قرار دی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق یوکرین کے محاذ پر لڑنے والے تمام جنگجو مقامی نہیں، بلکہ ان میں بڑی تعداد کولمبیا سمیت دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے نجی فوجیوں کی بھی ہے، جنہیں بھاری معاوضے کے عوض جنگ میں شامل کیا جاتا ہے۔
تجزیہ کار اس صورتحال کو روایتی جنگ کے بجائے ایک ابھرتی ہوئی مارکیٹ قرار دے رہے ہیں، جہاں جنگ ایک باقاعدہ صنعت کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ یہ نظام نجی عسکری کمپنیوں، یعنی پرائیویٹ ملٹری کمپنیز کے ذریعے چلایا جا رہا ہے، جو کارپوریٹ ماڈل کے تحت کام کرتی ہیں۔
ان نجی فوجیوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ کسی نظریے، قومی مفاد یا سرحدی دفاع کے بجائے محض مالی فائدے کے لیے لڑتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نجی سیکیورٹی کا دائرہ اب شاپنگ مالز اور فیکٹریوں سے آگے بڑھ کر ریاستی سطح تک پہنچ چکا ہے، جہاں ممالک اپنی دفاعی ضروریات کے لیے بھی نجی افواج کی خدمات حاصل کر رہے ہیں۔
روس کی مثال دی جائے تو اس کی فوج میں 27 مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے نجی فوجی شامل ہیں، جن سے ٹیلیگرام ایپ کے ذریعے رابطہ کیا جاتا ہے اور انہیں نقد رقم اور روسی شہریت کا لالچ دے کر معاہدوں پر آمادہ کیا جاتا ہے۔
اس تناظر میں ویگنر گروپ کو روس کی سب سے بڑی نجی عسکری کمپنی قرار دیا جاتا ہے، جو افریقی ممالک میں سیکیورٹی خدمات کے عوض معدنی وسائل کے معاہدے حاصل کرتی ہے اور مقامی حکومتوں کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق نجی افواج کا استعمال اب صرف روس تک محدود نہیں رہا بلکہ ترکی، کانگو اور مشرقِ وسطیٰ سمیت مختلف خطوں میں بھی ریاستیں براہِ راست جنگ میں شامل ہوئے بغیر اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے ان کمپنیوں کا سہارا لے رہی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ کی اس نجکاری نے عالمی نظام میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں انسانی جان کی اہمیت کم ہوتی جا رہی ہے اور اسے ایک معاشی اکائی کے طور پر دیکھا جانے لگا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اب سوال صرف یہ نہیں کہ جنگ کون جیتے گا، بلکہ یہ ہے کہ کیا دنیا اس نئے نظام کے لیے تیار ہے جہاں جنگ ایک کاروبار بن چکی ہے۔






