اسے غیر معمولی قرار دیتے ہوئے مختلف قیاس آرائیاں شروع کر دیں۔ بعض حلقوں کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ یہ ٹویٹ دراصل کسی بیرونی ملک یا ادارے کی طرف سے تیار کیا گیا مسودہ تھا جو غلطی سے اسی حالت میں شائع ہو گیا، جس کے بعد پاکستان کی سفارتی خودمختاری اور بیانیے پر سوالات اٹھائے جانے لگے۔
صحافی ادیب یوسفزئی کے مطابق حکومتی سطح پر بیانات اور سوشل میڈیا پیغامات ایک باقاعدہ ادارہ جاتی طریقہ کار کے تحت تیار کیے جاتے ہیں، جہاں ایک ہی متن کے متعدد ڈرافٹس بنائے جاتے ہیں اور انہیں مختلف سطحوں پر جانچا اور منظور کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق ایسے عمل میں یہ ممکن ہے کہ کسی مسودے پر ’“Draft – Pakistan’s PM Message on X,”‘ یا دیگر اندرونی نوٹس درج ہوں جو اشاعت سے قبل حذف کیے جانے ہوتے ہیں، تاہم بعض اوقات انسانی یا تکنیکی غلطی کے باعث یہ الفاظ حتمی پیغام کا حصہ بن جاتے ہیں۔
ڈیجیٹل کمیونیکیشن کے ماہرین بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر مواد شائع کرنے سے پہلے ایک طویل عمل سے گزرتا ہے، جس میں ایڈیٹنگ، منظوری اور شیڈولنگ شامل ہوتی ہے، اور اسی دوران کسی مرحلے پر معمولی سی کوتاہی اس نوعیت کی صورتحال پیدا کر سکتی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر بھی ایسے واقعات کی مثالیں موجود ہیں جہاں حکومتی یا بااثر شخصیات کے اکاؤنٹس سے نامکمل یا ڈرافٹ مواد شائع ہو گیا، جسے بعد ازاں درست کر لیا گیا۔
اس تمام تناظر میں دیکھا جائے تو وزیرِ اعظم کے ٹویٹ میں ’Draft‘ کا شامل ہونا بظاہر ایک تکنیکی یا انسانی غلطی معلوم ہوتا ہے، جبکہ اسے کسی بیرونی مداخلت یا خفیہ پیغام رسانی سے جوڑنے کے دعوے قیاس آرائیوں پر مبنی دکھائی دیتے ہیں۔







