غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق نمائش میں پیش کیا گیا چاندی رنگ کا روبوٹ ڈاگ دراصل چینی اسٹارٹ اپ کمپنی یونی ٹری کا تیار کردہ ماڈل تھا، جسے گیلگوٹیاس یونیورسٹی کے اسٹال پر رکھا گیا تھا۔
ٹی وی انٹرویو کے دوران پروفیسر نے روبوٹ کا تعارف کراتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اسے یونیورسٹی کے سینٹرز آف ایکسیلینس میں تیار کیا گیا ہے۔ روبوٹ نے کیمرے کے سامنے مختلف حرکات بھی کیں، جن میں ہاتھ ہلانا اور دو ٹانگوں پر کھڑا ہونا شامل تھا۔
ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا اور انڈیا کو عالمی سطح پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
بعد ازاں یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے وضاحت کی کہ اس نے یہ روبوٹ تیار نہیں کیا اور نہ ہی باضابطہ طور پر ایسا کوئی دعویٰ کیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق واقعے کے بعد یونیورسٹی کا اسٹال بند کر دیا گیا اور اس کی بجلی بھی منقطع کر دی گئی۔
ادارے کا کہنا تھا کہ روبوٹ حال ہی میں تعلیمی مقاصد کے لیے خریدا گیا تھا اور طلبہ اس پر تجربات کر رہے تھے۔
اپوزیشن جماعت کانگریس نے اس واقعے کو حکومت پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس سے ملک عالمی سطح پر مذاق بن گیا ہے۔ پارٹی نے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے اسے شرمناک قرار دیا۔
رپورٹس کے مطابق سمٹ کے دوران بدانتظامی، سست رفتار انٹرنیٹ اور بعض اسٹالز سے اشیا کی چوری جیسے واقعات بھی پیش آئے، جس پر انتظامات پر سوالات اٹھائے گئے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تنازع نے انڈیا کے ٹیکنالوجی اور جدت سے متعلق بیانیے، خصوصاً "میک اِن انڈیا" مہم، پر بھی بحث چھیڑ دی ہے اور ایسے واقعات عالمی سطح پر ملک کی ساکھ کو متاثر کر سکتے ہیں۔
امریکی ارب پتی بل گیٹس نے جمعرات کو اپنے طے شدہ کلیدی خطاب سے چند گھنٹے قبل نئی دہلی کی اے آئی امپیکٹ سمٹ میں شرکت منسوخ کر دی۔
اس فیصلے سے اس نمایاں تقریب کو ایک اور دھچکہ لگا، جو پہلے ہی انتظامی کوتاہیوں، روبوٹ سے متعلق تنازع اور ٹریفک کے شدید مسائل کی شکایات کی وجہ سے تنقید کی زد میں ہے۔






