اسرائیل اور امریکا نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ایران کی ریڑھ کی ہڈی توڑ دی ہے۔ ان کا ہدف واضح تھا: ایران کا ایٹمی پروگرام اور اس کی اعلیٰ قیادت۔ 

امریکا اور اسرائیل نے ایرانی رہبر اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای، قدس فورس کے کمانڈر اسماعیل باقائی، علی لاریجانی اور ایران کے ایٹمی پروگرام کے سائنسدانوں کو نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔

مغرب نے جشن منایا کہ اب ایران بکھر جائے گا، وہاں خانہ جنگی ہوگی اور ان کا کٹھ پتلی نظام مسلط ہو جائے گا۔ مگر وہ بھول گئے کہ ایران کوئی  کارپوریشن  نہیں بلکہ ایک  نظریاتی ریاست  ہے جس کی بنیادیں جذبۂ شہادت پر کھڑی ہیں۔

 کیا امریکا اپنے مقصد میں کامیاب ہوا؟ بالکل نہیں! ایران نے ثابت کیا کہ اس کا نظام افراد کا محتاج نہیں۔ پاسدارانِ انقلاب نے چند ہی گھنٹوں میں نئے کمانڈروں کا تقرر کر کے دنیا کو دکھا دیا کہ وہ  مظلوم مگر طاقتور  ہیں۔

ایران نے نہ صرف اپنی دفاعی لائن برقرار رکھی بلکہ اسرائیل کے اہم فوجی اڈوں کو نشانہ بنا کر یہ پیغام دیا کہ  ہم زخمی ضرور ہیں، مگر مفلوج نہیں ۔ دشمن جسے  خاتمہ  سمجھ رہا تھا، وہ ایران کے لیے ایک نئی اور مضبوط تر مزاحمت کا آغاز ثابت ہوا۔

 اب ذرا چلتے ہیں اس  سپر پاور  کی طرف جو دوسروں کو جمہوریت سکھانے نکلی تھی۔ 28 مارچ 2026 کو امریکا نے وہ منظر دیکھا جو خانہ جنگی کے بعد کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔

  نو کنگز  تحریک کے تحت پورے امریکا میں 90 لاکھ سے زائد افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ 50 ریاستوں کے 3300 شہروں میں احتجاج کے شعلے بھڑک اٹھے۔

نیویارک کے ٹائمز اسکوائر سے واشنگٹن کے نیشنل مال تک، ہر طرف ایک ہی نعرہ تھا: ہمیں تہران میں نہیں، واشنگٹن میں رجیم چینج چاہیے۔

امریکی عوام جان چکے ہیں کہ ٹرمپ نے اسرائیل کے مفاد کے لیے اپنی معیشت داؤپرلگا دی ہے۔ پٹرول کی قیمتیں اورافراطِ زر عام آدمی کی کمر توڑرہے ہیں، جب کہ اربوں ڈالرایران پر بم گرانے کے لیے جھونکے جا رہے ہیں۔

صدرٹرمپ، جو ایران میں  عوامی انقلاب  کے خواب دیکھ رہے تھے، آج اپنے ہی ملک میں  غاصب اور آمر  پکارے جا رہے ہیں۔ 53 فیصد سے زائد امریکی اس جنگ کو ایک  غلطی  قرار دے چکے ہیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ ایران نے اپنی قیادت کھو کر بھی اپنا وقاراورنظام بچا لیا، جب کہ امریکا نے بظاہر  کامیابی  کا ڈھونگ رچا کر اپنا اندرونی اتحاد اورعوامی اعتماد کھو دیا۔ جو دوسروں کے گھروں میں آگ لگانے نکلے تھے، آج ان کے اپنے گھر کے آنگن میں شعلے بھڑک رہے ہیں۔