پیٹروڈالر نظام، جس کے تحت تیل کی ادائیگیاں امریکی ڈالر میں کی جاتی ہیں، 1970 کی دہائی سے عالمی معیشت کی بنیاد بنا ہوا ہے۔ اس نظام کے باعث دنیا بھر کے ممالک کو تیل خریدنے کے لیے ڈالر رکھنا پڑتا ہے، جس سے امریکی کرنسی کی طلب اور اس کی طاقت برقرار رہتی ہے۔

تاہم موجودہ حالات میں تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ایران، روس اور وینزویلا جیسے ممالک، جو امریکی پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں، ڈالر کے متبادل نظام تلاش کر رہے ہیں، جب کہ چین تیل کی تجارت میں "پیٹرو یوان" کے فروغ کے لیے سرگرم ہے۔

آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے، اس بحث کا مرکزی نقطہ بن چکا ہے۔ اگر ایران اس اہم سمندری راستے کو کرنسی کی شرط کے ساتھ کنٹرول کرتا ہے تو یہ پہلی بار ہوگا کہ کسی آبی گزرگاہ کو مالیاتی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جائے، جس کے عالمی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب عالمی مالیاتی ادارے، انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف)، نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں کشیدگی کے باعث عالمی معاشی ترقی سست ہو رہی ہے اور مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے، خاص طور پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے سبب۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ فوری طور پر پیٹروڈالر نظام کا خاتمہ ممکن نہیں، کیونکہ امریکی ڈالر اب بھی دنیا کی سب سے مستحکم اور وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والی کرنسی ہے، جس کی بنیاد مضبوط مالیاتی نظام، بینکاری نیٹ ورک اور عالمی اعتماد پر قائم ہے۔

تاہم یہ بھی واضح ہے کہ اس کی گرفت بتدریج کمزور ہو رہی ہے۔ ایران، روس اور چین جیسے ممالک متبادل نظام تشکیل دے رہے ہیں، اور اگر یہ رجحان جاری رہا تو مستقبل میں "پیٹرو یوان" عالمی مالیاتی نظام کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن سکتا ہے۔