سی ڈی اے کے بلڈوزر حرکت میں ہیں اور ہزاروں خاندان اب تک بے گھر ہو چکے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آخر ریاست اور عوام کے درمیان یہ جنگ کیسے چھڑ گئی؟
سب سے پہلے حکومت کے مؤقف کی بات کرتے ہیں۔ سی ڈی اے کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن انکروچمنٹ یعنی غیر قانونی تجاوزات کے خلاف ہے۔ ساتھ ہی انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ یہ زمین سرکاری ہے اور ماسٹر پلان کے مطابق یہاں بستیوں کی گنجائش نہیں۔ جب کہ سیکیورٹی حکام کے مطابق یہ علاقہ ریڈ زون اور ڈپلومیٹک ایریا کے بالکل قریب ہے، جہاں غیر منظم بستیوں کی موجودگی ایک بڑا سیکیورٹی رسک ہے۔
اس کے علاوہ حکومت کا مؤقف ہے کہ مزار کی توسیع اور زائرین کی سہولت کے لیے ان جگہوں کو صاف کرنا ناگزیر ہے۔
اب دوسری طرف وہ لوگ ہیں جن کی زندگی کا کل اثاثہ یہی چھت تھی۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ہم یہاں پاکستان بننے سے بھی پہلے کے آباد ہیں، ہمارے بزرگوں کی قبریں یہاں ہیں، ہم تجاوزات کیسے ہو گئے؟
عوام کا سب سے بڑا شکوہ یہ ہے کہ انہیں کوئی متبادل جگہ نہیں دی گئی اور نہ ہی سامان نکالنے کا مناسب وقت دیا گیا، جب کہ جھڑپوں اور آنسو گیس کے استعمال نے مقامی آبادی میں ریاست کے خلاف شدید غصہ پیدا کر دیا ہے۔
قانونی طور پر بھی یہ معاملہ کافی پیچیدہ ہے۔ سی ڈی اے کے مطابق یہ زمین 1960 کی دہائی میں ایکوئر کی جا چکی تھی اور اس کا معاوضہ ادا ہو چکا ہے، لہٰذا اب یہ ریاست کی ملکیت ہے۔
جب کہ بین الاقوامی اور ملکی قوانین کے تحت ہر شہری کو رائٹ ٹو شیلٹر یعنی چھت کا حق حاصل ہے۔
قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ اگر قبضہ پرانا ہو تو حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ زبردستی بے دخلی سے پہلے ری سیٹلمنٹ پلان یعنی دوبارہ آبادکاری کا منصوبہ فراہم کرے۔ پھر کسی کو بے دخل کرے۔
عوام کا سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اگر یہ جگہ سرکاری تھی تو یہاں دہائیوں تک سرکاری میٹر، گیس کے کنکشن اور سڑکیں کیسے بنتی رہیں؟ یہاں سرکاری اسکول کیسے قائم ہوئے؟
بری امام کی یہ بستیاں اب اجڑ رہی ہیں۔ انتظامیہ اسے قانون کی بالادستی کہتی ہے اور عوام اسے ریاستی ظلم کا نام دے رہے ہیں۔ لیکن پھر سے سوال یہ ہے کہ آخر ساٹھ سال بعد ہی حکومت کو کیوں یاد آیا کہ یہ زمین سرکاری ہے اور ان لوگوں کو بے دخل کرنے سے پہلے کوئی شیلٹر کیوں نہیں دیا گیا؟







