اربوں افراد یوٹیوب کا استعمال کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ تخلیقی سوچ رکھنے والے افراد کے لیے یہ اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے اور آمدنی حاصل کرنے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم بن گیا ہے۔
یوٹیوب پارٹنر پروگرام کا حصہ بن کر صارفین اس ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم سے پیسے کما سکتے ہیں، تاہم اب بیشتر افراد کے لیے یوٹیوب سے آمدنی حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا کیونکہ کمپنی نے مونیٹائزیشن کی شرائط مزید سخت کرنے کا اعلان کیا ہے۔
خیال رہے کہ یوٹیوب مونیٹائزیشن کے ذریعے صارفین کو اشتہارات، چینل ممبرشپ، سپر چیٹ اور مرچنڈائز سمیت مختلف ذرائع سے آمدنی حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے۔
ان فیچرز کو فعال کرنے کے لیے صارف کو یوٹیوب پارٹنر پروگرام کا حصہ بننا ضروری ہوتا ہے، جس کے لیے مخصوص شرائط پوری کرنا ہوتی ہیں۔ اب یوٹیوب نے ان شرائط میں تبدیلی کرتے ہوئے انہیں پہلے سے زیادہ سخت کر دیا ہے۔
نئی مونیٹائزیشن شرائط کیا ہیں؟
پہلے یوٹیوب سے پیسے کمانے کے لیے ضروری تھا کہ صارف کے چینل پر کم از کم ایک ہزار سبسکرائبرز ہوں، جب کہ گزشتہ ایک سال کے دوران اس کی طویل ویڈیوز کو مجموعی طور پر 4 ہزار گھنٹے دیکھا گیا ہو۔
تاہم اب اس شرط کو بڑھا دیا گیا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت ایک سال کے دوران کم از کم 8 ہزار گھنٹے ویڈیو دیکھے جانے کی صورت میں ہی صارف یوٹیوب پارٹنر پروگرام کے ذریعے آمدنی حاصل کر سکے گا۔
اس کے علاوہ یوٹیوب شارٹس کے ذریعے مونیٹائزیشن حاصل کرنے کے لیے گزشتہ 90 دن کے دوران شارٹس ویڈیوز کو 2 کروڑ سے زائد مرتبہ دیکھے جانا ضروری ہوگا۔
اس سے قبل شارٹس سے آمدنی حاصل کرنے کے لیے 90 دن میں ایک کروڑ ویوز کی شرط عائد تھی۔
نئی پالیسی کب نافذ ہوگی؟
یوٹیوب کی مونیٹائزیشن پالیسی میں یہ نئی تبدیلی یکم فروری 2027 سے نافذ ہوگی۔ گوگل کے مطابق اس اپ ڈیٹ سے وہ صارفین متاثر نہیں ہوں گے جو پہلے ہی یوٹیوب پارٹنر پروگرام کا حصہ ہیں۔
یوٹیوب کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مستقبل میں شارٹس ویڈیوز سے آمدنی برقرار رکھنے کے لیے صارفین کو 90 دن کے اندر ایک کروڑ ویوز کی شرط پوری کرنا ہوگی۔
اگر کوئی صارف یہ ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہتا ہے تو وہ یوٹیوب پارٹنر پروگرام کا حصہ تو برقرار رہے گا اور طویل ویڈیوز سے آمدنی حاصل کر سکے گا، تاہم شارٹس ویڈیوز سے آمدنی اسی وقت ممکن ہوگی جب وہ دوبارہ ایک کروڑ ویوز کا ہدف حاصل کر لے گا۔
یوٹیوب نے پالیسی کیوں تبدیل کی؟
کمپنی کے مطابق ان تبدیلیوں کا مقصد یوٹیوب کے تیزی سے بڑھتے ہوئے پلیٹ فارم کی رفتار کو برقرار رکھنا اور مونیٹائزیشن کے نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
یوٹیوب پر روزانہ 200 ارب سے زائد شارٹس ویڈیوز دیکھی جاتی ہیں، جب کہ صرف ٹی وی اسکرینز پر ہی روزانہ ایک ارب گھنٹوں کے برابر ویڈیوز دیکھی جاتی ہیں۔
نئی پالیسی کے بعد صارفین کے لیے یوٹیوب پارٹنر پروگرام کا حصہ بننا اور اس میں اپنی جگہ برقرار رکھنا نسبتاً مشکل ہو جائے گا، خصوصاً ان تخلیق کاروں کے لیے جو بنیادی طور پر شارٹس ویڈیوز کے ذریعے آمدنی حاصل کرتے ہیں۔







