ماہرین کے مطابق دونوں باتیں کسی حد تک درست ہیں۔ سولر پینلز کی اوسط عمر تقریباً 25 سے 30 سال ہوتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ آنے والی دہائیوں میں دنیا بھر میں لاکھوں پرانے پینلز اپنی مدت پوری کرنے کے بعد فضلے میں تبدیل ہو جائیں گے۔

رپورٹس کے مطابق 2050 تک سولر پینلز کے فضلے کی مقدار تقریباً 88 ملین ٹن تک پہنچ سکتی ہے، جو ماحولیاتی سطح پر ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔

اس وقت امریکا میں صرف تقریباً 10 فیصد سولر پینلز کو ری سائیکل کیا جاتا ہے، جب کہ یورپی یونین میں قوانین زیادہ سخت ہیں اور وہاں تقریباً 80 فیصد پینلز کی ری سائیکلنگ لازمی قرار دی گئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ری سائیکلنگ میں سب سے بڑا مسئلہ لاگت ہے۔ کئی ممالک میں پرانے پینلز کو ری سائیکل کرنے کے بجائے لینڈ فل میں پھینک دینا زیادہ سستا پڑتا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ابھی تک اتنی بڑی تعداد میں پرانے پینلز جمع نہیں ہوئے کہ ری سائیکلنگ ایک مکمل منافع بخش صنعت بن سکے۔

اس کے باوجود ان پینلز میں کئی قیمتی دھاتیں اور مواد موجود ہوتے ہیں، جن میں سلیکون، ایلومینیم، تانبا اور چاندی شامل ہیں۔ جدید ری سائیکلنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے بعض صورتوں میں 90 سے 99 فیصد تک مواد دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔

انجینئرز ایسے جدید طریقوں پر کام کر رہے ہیں جو کم لاگت اور زیادہ مؤثر ہوں تاکہ قیمتی دھاتوں کو آسانی سے دوبارہ حاصل کیا جا سکے۔

اسی کے ساتھ سولر پینلز کی نئی نسل بھی تیار کی جا رہی ہے، جنہیں مستقبل میں زیادہ آسانی سے ری سائیکل کیا جا سکے گا۔ اگرچہ یہ ٹیکنالوجی ابھی بڑے پیمانے پر استعمال نہیں ہو رہی، تاہم ماہرین اسے سولر انڈسٹری کا اگلا اہم مرحلہ قرار دے رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق سولر پینلز کے فضلے کا مسئلہ حقیقی ضرور ہے، لیکن فی الحال یہ مکمل طور پر بے قابو نہیں۔ جیسے جیسے دنیا میں سولر توانائی کا استعمال بڑھ رہا ہے، ویسے ویسے اس کے فضلے کو مؤثر انداز میں سنبھالنے کے طریقے بھی بہتر ہوتے جا رہے ہیں۔