افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ "سکائی 47" منصوبہ پاکستان کے متحرک، ترقی پسند اور جدید مستقبل کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر قوم مشکلات اور چیلنجز کا مقابلہ امید، عزم اور اتحاد سے کرے تو معرکۂ حق جیسے تاریخی کارنامے سرانجام دیے جا سکتے ہیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ پاکستان کے مستقبل کی ضمانت ہے اور ملک کی ڈیجیٹل و سائبر سکیورٹی کو مزید مضبوط بنائے گا۔ انہوں نے کہا کہ متحد ہو کر کام کیا جائے تو کوئی بھی ہدف ناقابلِ حصول نہیں رہتا۔
تقریب میں وفاقی وزرا، اعلیٰ حکام اور دیگر مہمانوں نے بھی شرکت کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ جدید ترین ڈیٹا سینٹر انتہائی متاثر کن ہے اور اسے مختصر مدت میں غیر معمولی عزم، مہارت اور پیشہ ورانہ صلاحیت کے ساتھ مکمل کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر اسی ماڈل پر کام جاری رکھا جائے تو پاکستان نہ صرف ماضی کی کمیوں کا ازالہ کر سکتا ہے بلکہ ایک جدید اور ترقی یافتہ معیشت کی بنیاد بھی رکھ سکتا ہے۔
وزیراعظم نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، منصوبے کے شراکت دار ادارے زیڈ ٹی ای، وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ، سیکرٹری آئی ٹی اور دیگر متعلقہ اداروں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ قوم کو ایسا منصوبہ دینے پر تمام اسٹیک ہولڈرز مبارکباد کے مستحق ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ مستقبل میں کراچی اور لاہور میں بھی اسی نوعیت کے ڈیٹا سینٹرز قائم کیے جائیں گے اور تمام سرکاری اداروں کو اس جدید ڈیجیٹل انفراسٹرکچر سے منسلک کیا جانا چاہیے۔
اس موقع پر وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ "سکائی 47" پاکستان میں مصنوعی ذہانت کے نئے دور کا آغاز ہے۔ ان کے مطابق دنیا کی آئندہ معاشی مسابقت ڈیٹا کے محفوظ، مؤثر اور کم لاگت استعمال پر منحصر ہوگی، جبکہ یہ منصوبہ مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ اور ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ کے لیے جدید سہولیات فراہم کرے گا۔
سکائی 47 کے چیف ایگزیکٹو حسن عباس نے بتایا کہ دنیا بھر میں تقریباً 12 ہزار ڈیٹا سینٹرز موجود ہیں جبکہ پاکستان میں صرف 22 ڈیٹا سینٹرز ہیں، حالانکہ ملک میں ڈیجیٹل خدمات کی گنجائش اور طلب تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ای کامرس شعبہ سالانہ 25 سے 30 فیصد کی شرح سے ترقی کر رہا ہے اور یہ منصوبہ ملک کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
حکام کے مطابق "سکائی 47 قراقرم ون" مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ڈیٹا ہوسٹنگ اور ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ کی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ حساس قومی اور تجارتی معلومات کے محفوظ ذخیرے کے لیے بھی اہم کردار ادا کرے گا۔






