آئی ایس پی آر کی جانب سے 7 مئی کو جاری کی گئی ایک ویڈیو میں اس میزائل کی جھلک بھی دکھائی گئی تھی جس نے دفاعی حلقوں اور سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کی۔

دفاعی ماہرین کے مطابق فتح تھری جدید ٹیکنالوجی سے لیس ایک کروز میزائل ہے جس میں ریم جیٹ انجن نصب ہے، جو اسے سپرسونک رفتار فراہم کرتا ہے۔ اندازوں کے مطابق اس کی رفتار 4300 کلومیٹر فی گھنٹہ سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اس میزائل کا ڈیزائن اسے انتہائی کم بلندی پر پرواز کرنے کی صلاحیت دیتا ہے، جس کی وجہ سے جدید ریڈار سسٹمز کے لیے اسے ٹریک کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ کم اونچائی پر پرواز کرنے کی یہ صلاحیت دفاعی نظاموں کے ردعمل کا وقت بھی کم کر دیتی ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں نے میڈیا میں اس میزائل کا موازنہ بھارت کے براہموس میزائل سے بھی کیا ہے۔ اگرچہ براہموس کو خطے کے تیز ترین کروز میزائلوں میں شمار کیا جاتا ہے، تاہم بعض رپورٹس کے مطابق فتح تھری میں جدید اسٹیلتھ اور گائیڈنس ٹیکنالوجی شامل ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: روس کا دنیا کے طاقتور ترین جوہری میزائل ’سرمت‘ کا کامیاب تجربہ، خصوصیات کیا ہیں؟

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے جدید میزائل نظام خطے میں دفاعی توازن اور ڈیٹرنس کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کو روکنے میں مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔

حکام کی جانب سے ابھی تک اس میزائل کی مکمل تکنیکی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں اور آزاد ذرائع سے ان دعوؤں کی تصدیق بھی محدود ہے۔