اس نئے فیچر کے ذریعے صارفین جب انکوگنیٹو موڈ فعال کریں گے تو نہ صرف ان کی چیٹس محفوظ نہیں کی جائیں گی بلکہ گفتگو کا ریکارڈ خودکار طور پر صارف کے چیٹ انٹرفیس سے بھی غائب ہو جائے گا۔
واٹس ایپ انتظامیہ کے مطابق اس فیچر کا مقصد صارفین کو زیادہ پرائیویسی فراہم کرنا ہے تاکہ وہ صحت، ذاتی تعلقات، مالی معاملات اور دیگر حساس موضوعات پر بغیر کسی جھجھک کے مصنوعی ذہانت (AI) سے گفتگو کر سکیں۔
کمپنی کے مطابق جب یہ موڈ فعال ہوگا تو نہ صارف کی گفتگو کی نگرانی کی جائے گی اور نہ ہی اے آئی کے جوابات کو کسی بیرونی تجزیے یا ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے گا۔
WhatsApp Introduces Private “Incognito” Chats for AI Chatbot Conversations to Boost User Privacyhttps://t.co/iIMn5N2T7O pic.twitter.com/4OxVRPWU2b
— Emmanuel Aning (@EmmanuelAning10) May 13, 2026
واٹس ایپ کے سربراہ ول کیتھ کارٹ نے کہا ہے کہ بہت سے صارفین چاہتے ہیں کہ وہ اپنے ذاتی اور حساس موضوعات پر اے آئی سے بات کریں لیکن اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ یہ معلومات کسی بھی طرح کمپنی یا تیسرے فریق کے لیے قابلِ رسائی نہ ہوں۔
انہوں نے کہا کہ یہی صارفین کی اصل ضرورت تھی جس کے پیش نظر یہ نیا پرائیویسی فیچر متعارف کرایا گیا ہے۔
دوسری جانب سائبر سیکیورٹی ماہرین نے اس فیچر پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر چیٹ ہسٹری مکمل طور پر غائب ہو جائے تو کسی بھی مسئلے یا شکایت کی صورت میں کمپنی کے پاس تحقیق کے لیے کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہوگا، جس سے جواب دہی کا نظام متاثر ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق مکمل انکرپشن اور غیر مرئی گفتگو بعض صورتوں میں غلط استعمال کے امکانات بھی بڑھا سکتی ہے۔
واضح رہے کہ واٹس ایپ، امریکی ٹیکنالوجی کمپنی میٹا کی ملکیت ہے، جو فیس بک، انسٹاگرام اور میسنجر بھی چلاتی ہے۔
گزشتہ سال جب میٹا اے آئی کو واٹس ایپ میں شامل کیا گیا تھا تو کئی صارفین نے اس پر اعتراض کیا تھا، خاص طور پر اس وجہ سے کہ اسے مکمل طور پر بند کرنے کا آپشن موجود نہیں تھا۔
میٹا کے سربراہ مارک زکربرگ کے مطابق مئی 2025 تک میٹا اے آئی کمپنی کی مختلف ایپس کے ذریعے ایک ارب سے زائد صارفین تک پہنچ چکا ہے، جو اس ٹیکنالوجی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت کو ظاہر کرتا ہے۔
ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک طرف صارفین زیادہ پرائیویسی کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف اے آئی ٹولز پر اعتماد بھی بڑھ رہا ہے۔
واٹس ایپ کا یہ نیا قدم اسی بڑھتی ہوئی طلب کا نتیجہ سمجھا جا رہا ہے، تاہم اس کے ساتھ ہی ڈیٹا سیکیورٹی اور احتساب کے حوالے سے بحث بھی دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔







