میٹا کے مطابق یہ واقعہ ایک غلط کنفیگریشن کے باعث پیش آیا، جس کے نتیجے میں اس کے ایک اے آئی ماڈل کو ٹیسٹنگ کے دوران غیر ارادی طور پر انٹرنیٹ تک رسائی مل گئی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ سائبر سیکیورٹی جانچ کرنے والی آزاد کمپنی ایرریگولر کی کنفیگریشن میں غلطی کے باعث یہ صورتحال پیدا ہوئی۔

میٹا نے اپنے بیان میں کہا کہ مذکورہ ماڈل نے ایک تھرڈ پارٹی سروس میں موجود سیکیورٹی کمزوری سے فائدہ اٹھایا، جو حالیہ عرصے میں دیگر کمپنیوں کے سامنے آنے والے واقعات سے مماثلت رکھتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق متاثرہ ماڈل میوز اسپارک 1.1 تھا، جسے میٹا حقیقی دنیا کے کوڈنگ اور ایجنٹک ٹاسکس کے لیے اپنے جدید ترین اے آئی ماڈلز میں شمار کرتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس ماڈل نے ایک نامعلوم کمپنی کے سسٹمز میں داخل ہو کر اس کے اندرونی ماحول میں تبدیلیاں بھی کیں۔

ایرریگولر کے ترجمان نے رائٹرز کو بتایا کہ یہ واقعہ گزشتہ ہفتے اینتھروپک کے اے آئی ماڈلز سے متعلق سامنے آنے والے واقعے سے ملتا جلتا تھا۔ ان کے مطابق یہ کوئی پیچیدہ سائبر حملہ یا سیکیورٹی حصار توڑنے کا معاملہ نہیں تھا۔

اس سے قبل اینتھروپک اور اوپن اے آئی کے اے آئی سسٹمز سے متعلق بھی ایسے واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ اوپن اے آئی کے ایک اے آئی ایجنٹ نے سائبر سیکیورٹی ٹیسٹنگ کے دوران خودکار طور پر ایک نامعلوم کمزوری استعمال کرتے ہوئے انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کر لی تھی۔

ماہرین کے مطابق ایسے واقعات اس خدشے کو مزید تقویت دیتے ہیں کہ مستقبل میں زیادہ طاقتور اے آئی ماڈلز سائبر حملوں کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔ امریکی قانون ساز بھی اے آئی سے متعلق سائبر خطرات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق وائٹ ہاؤس نے حال ہی میں میٹا، اینتھروپک، اوپن اے آئی اور گوگل سمیت بڑی اے آئی کمپنیوں کو جدید ماڈلز کے لیے رضاکارانہ سائبر سیکیورٹی ٹیسٹنگ فریم ورک پر مشاورت کے لیے مدعو کیا تھا۔