کمپنی کے مطابق اس سرمایہ کاری کا مقصد ملک میں ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی طلب کو مدنظر رکھتے ہوئے کمپیوٹنگ اور مصنوعی ذہانت کی صلاحیت کو مزید وسعت دینا ہے۔

مائیکروسافٹ نے بتایا کہ یہ سرمایہ کاری اس کے ایژور مصنوعی ذہانت سپر کمپیوٹنگ اور کلاؤڈ بنیادی ڈھانچے کی توسیع، سائبر سیکیورٹی کو مضبوط بنانے اور ملک بھر میں مصنوعی ذہانت کی مہارتوں کے فروغ میں معاون ثابت ہوگی۔

عالمی خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ستیا ناڈیلا کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا کے پاس مصنوعی ذہانت کو حقیقی معاشی ترقی اور سماجی فائدے میں تبدیل کرنے کا غیر معمولی موقع موجود ہے۔ انہوں نے اس اقدام کو آسٹریلیا میں مائیکروسافٹ کی اب تک کی سب سے بڑی سرمایہ کاری قرار دیا۔

دوسری جانب مائیکروسافٹ اور اس کے بڑے حریف، جن میں Alphabet Inc.، Amazon اور Meta Platforms شامل ہیں، جو برج واٹر ایسوسی ایٹس کے مطابق رواں سال مصنوعی ذہانت سے متعلق بنیادی ڈھانچے پر مجموعی طور پر 650 ارب ڈالر تک خرچ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مائیکروسافٹ کو مصنوعی ذہانت معاونین کے میدان میں سخت مقابلے کا سامنا ہے، جہاں اس کا کوپائلٹ ٹول دیگر کمپنیوں کی مصنوعات، جیسے کلاوئڈ اور جیمنائی سے مقابلہ کر رہا ہے۔

کمپنی نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ 2029 تک آسٹریلوی صارفین کے لیے اپنی کمرشل کلاؤڈ اور مصنوعی ذہانت خدمات، بشمول گرافکس پروسیسنگ یونٹس، میں 140 فیصد سے زائد اضافہ کرے گی۔

واضح رہے کہ یہ اعلان مائیکروسافٹ کی 2023 میں کی گئی پانچ ارب آسٹریلوی ڈالر کی سرمایہ کاری کا تسلسل ہے، جس کا مقصد ملک میں ہائپر اسکیل کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے کو فروغ دینا تھا۔

آسٹریلیا کے وزیر اعظم نے اس اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سرمایہ کاری سے ملک میں تربیت، جدید ٹیکنالوجی اور نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

آسٹریلوی حکومت نے بھی اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بنیادی ڈھانچے کی ضروریات کو پورا کرنے اور توانائی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مائیکروسافٹ کے ساتھ تعاون کرے گی۔