رپورٹس کے مطابق جنوری 2026 میں 2 کروڑ سے زائد ڈاؤن لوڈز حاصل کرنے کے بعد گروک ایپ کی مقبولیت میں مسلسل کمی ریکارڈ کی گئی اور اپریل تک اس کی ڈاؤن لوڈز تقریباً 60 فیصد کم ہو کر 83 لاکھ کے قریب رہ گئیں۔

ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق گروک ایپ کو جنوری میں غیر معمولی مقبولیت اس وقت ملی جب سوشل میڈیا پر نیوڈیفکیشن ٹرینڈ وائرل ہوا۔ اس ٹرینڈ میں صارفین مصنوعی ذہانت کی مدد سے تصاویر میں غیر مجاز تبدیلیاں کر رہے تھے، جس کے باعث ایپ کو مختصر وقت میں لاکھوں نئے صارفین ملے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس نے غلط استعمال اور تنازعات کے خدشات کے پیش نظر گروک کی بعض فیچرز کو محدود کرتے ہوئے انہیں صرف پیڈ صارفین تک رسائی دی، جس کے بعد ایپ کی سرگرمی اور صارفین کی دلچسپی میں واضح کمی دیکھنے میں آئی۔

رپورٹس کے مطابق گروک کو صرف صارفین کی کمی ہی نہیں بلکہ انٹرپرائز مارکیٹ میں بھی سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ حالیہ سروے میں شامل صرف 7 فیصد کمپنیوں نے کہا کہ وہ گروک استعمال کر رہی ہیں، جبکہ دیگر اے آئی پلیٹ فارمز نے نمایاں برتری حاصل کر لی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق اینتھروپک کے کلاڈ پلیٹ فارم کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہوا اور اس کی اپنانے کی شرح 48 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ گوگل جیمنائی تقریباً 40 فیصد انٹرپرائز اپنانے کی شرح حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔

یاد رہے کہ گروک کی ماہانہ ویب ٹریفک میں بھی مسلسل کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابتدائی وائرل کامیابی کو طویل المدتی صارفین میں تبدیل کرنا ایکس اے آئی کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ مصنوعی ذہانت کی موجودہ دوڑ اب صرف جدید فیچرز یا طاقتور ماڈلز تک محدود نہیں رہی بلکہ اصل مقابلہ اعتماد، پرائیویسی، انٹرپرائز سیکیورٹی اور بڑے پیمانے پر قابلِ اعتماد سروس فراہم کرنے کا ہے۔

ادھر عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کی صنعت میں مقابلہ مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے جہاں اوپن اے آئی، گوگل، اینتھروپک اور ایکس اے آئی اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری، ڈیٹا سینٹرز، جی پی یوز اور جدید اے آئی انفراسٹرکچر پر کام کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ آنے والے برسوں میں وہی کمپنیاں نمایاں مقام حاصل کر سکیں گی جو صرف وائرل ٹرینڈز پر انحصار کرنے کے بجائے مضبوط، محفوظ اور پائیدار اے آئی ایکو سسٹم تشکیل دینے میں کامیاب ہوں گی۔

دوسری جانب صارفین اور کاروباری ادارے بھی اب ایسے اے آئی پلیٹ فارمز کو ترجیح دے رہے ہیں جو صرف تخلیقی صلاحیت ہی نہیں بلکہ ڈیٹا سیکیورٹی، اعتماد اور پیشہ ورانہ استعمال کے تقاضوں پر بھی پورا اتر سکیں۔