اس معاہدے کا انکشاف 30 ستمبر کو جاری کی پریس ریلیز میں کیا گیا تھا۔ اس پریس ریلیز میں بتایا گیا تھا کہ اس معاہدے کہ میزائل کی قیمت 41.6 ملین ڈالر فکس کردی گئی ہے۔ معاہدے کی مجموعی قیمت $2.47 بلین سے $2.5 بلین ہوگئی۔
اس معاہدے میں برطانیہ، پولینڈ، پاکستان، جرمنی، فن لینڈ، آسٹریلیا، رومانیہ، قطر، عمان، کوریا، یونان، سوئٹزرلینڈ، پرتگال، سنگاپور، نیدرلینڈز، ڈینمارک، کینیڈا، بیلوچ ریپبلک، کنیڈا، بیلوچ، جاپان، جاپان، جرمنی، فن لینڈ، آسٹریلیا، رومانیہ، قطر، عمان، کوریا، کوریا، کورین فوجی فروخت شامل ہیں۔ بحرین، سعودی عرب، اٹلی، ناروے، اسپین، کویت، فن لینڈ، سویڈن، تائیوان، لتھوانیا، اسرئیل، بلغاریہ، ہنگری اور ترکی، "معاہدے میں کہا گیا۔
امرام معاہدے میں پاکستان کو میزائل کے خریداروں کی فہرست میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔
مبینہ طور پر یہی میزائل فروری 2019 میں استعمال کیے گئے تھے، جب پی اے ایف نے آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کیا اور انڈیا کے ا کے دو طیاروں کو مار گرایا تھا۔
پاکستان نے 2007 میں سات سو امرام مرائل خریدے تھے جو تاریخ میں سب سے بڑی خریداری تھی۔
یہ پیش رفت پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات میں بہتری لائے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دیر سے ہی مگر ایسا لگتا ہے کہ اسلام آباد اور واشنگٹن کے سرد تعلقات میں گرم جوشی آئی ہے۔






