چینی ادارے نیشنل ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن نے بیجنگ میں اعلان کیا کہ اس معاہدے کا سکیورٹی جائزہ لینے کے بعد دونوں کمپنیوں کو ڈیل ختم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق اس فیصلے کے تحت نہ صرف اس خریداری کو روکا گیا ہے بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاری پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے، جس کے باعث میٹا اور مینس کو معاہدے سے مکمل طور پر دستبردار ہونا ہوگا۔

رپورٹس کے مطابق تحقیقات کے دوران مینس کے شریک بانی ژاؤ ہونگ اور جی یچاؤ پر سفری پابندیاں بھی عائد کی گئیں، جنہیں مارچ میں ملک چھوڑنے سے روک دیا گیا تھا۔

مینس، جو کمپنی بٹرفلائی ایفیکٹ نے تیار کی، ایک جدید  ایجنٹک اے آئی  پلیٹ فارم ہے جو خودکار طریقے سے پیچیدہ ڈیجیٹل کام انجام دے سکتا ہے، جیسے ریزیومے کا خلاصہ بنانا یا اسٹاک تجزیے کی ویب سائٹس تیار کرنا۔

میٹا نے دسمبر میں اس خریداری کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے اس کے پلیٹ فارمز جیسے فیسبک اور انسٹاگرام پر اے آئی ٹولز کو مزید وسعت ملے گی۔

ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ امریکا اور چین کے درمیان ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے، جہاں جدید اے آئی ٹیکنالوجی سے متعلق سرحد پار سرمایہ کاری پر سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ اب تک میٹا اور مینس کی جانب سے اس فیصلے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے دونوں بڑی ٹیک طاقتوں کے درمیان تعاون کے امکانات مزید محدود ہو سکتے ہیں۔