لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایل سی سی آئی) کے تیسرے آئی ٹی فری لانسنگ ایوارڈز 2026 کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کا چوتھا بڑا فری لانسنگ ملک بن چکا ہے، جبکہ پاکستانی نوجوان اپنی صلاحیتوں کے ذریعے نہ صرف ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دے رہے ہیں بلکہ برآمدات میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
احسن اقبال نے کہا کہ آج کی دنیا میں کامیابی کے لیے بڑے دفاتر یا بھاری سرمایہ کاری کی ضرورت نہیں، بلکہ علم، مہارت اور ٹیکنالوجی تک رسائی سب سے قیمتی اثاثہ بن چکے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستانی نوجوان دنیا بھر کے صارفین کو خدمات فراہم کر کے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ بھی کما رہے ہیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لاہور چیمبر کے صدر فہیم الرحمان سیگل نے فری لانسرز اور آئی ٹی ماہرین پر زور دیا کہ وہ عالمی منڈی میں مسابقت برقرار رکھنے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور جدید ٹیکنالوجیز سے خود کو ہم آہنگ کریں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اور نجی شعبہ مل کر پاکستان کو خطے کا مضبوط ڈیجیٹل معیشت کا مرکز بنا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ’’اڑان پاکستان‘‘ وژن میں جدت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل معیشت بنیادی ستون ہیں، جبکہ مقامی فری لانسرز اس وژن کو حقیقت کا روپ دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
پنجاب کے وزیر خزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمٰن نے پاکستانی فری لانسرز کی کامیابیوں کو سراہنے پر لاہور چیمبر کی کوششوں کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ فری لانسنگ اب متبادل پیشہ نہیں بلکہ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کا ایک مضبوط ستون بن چکی ہے، اور فری لانسرز ہر سال لاکھوں ڈالر کا زرمبادلہ ملک میں لا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی فری لانسرز دراصل ملک کے ’’ڈیجیٹل سفیر‘‘ ہیں، جو عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کر رہے ہیں۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ پنجاب حکومت عالمی معیار کے ادائیگی کے نظام اور مضبوط ڈیجیٹل مالیاتی نظام کی ضرورت سے پوری طرح آگاہ ہے اور وفاقی حکومت و اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کے ساتھ مل کر فری لانسرز کو بین الاقوامی ادائیگیوں میں درپیش رکاوٹیں دور کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد یہ ہے کہ فری لانسرز کو ان کی آمدنی محفوظ، تیز رفتار اور آسان ذرائع سے موصول ہو۔
میاں مجتبیٰ شجاع الرحمٰن نے کاروبار دوست ماحول، شفافیت اور مستحکم معاشی پالیسیوں کے فروغ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی پارکس، آئی ٹی زونز اور انوویشن ہبز پر بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، جس سے نوجوانوں کے لیے روزگار اور کاروباری مواقع پیدا ہوں گے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ انتظامیہ کا اے آئی تحقیق کے لیے 5 ارب ڈالر کے قومی منصوبے کا اعلان
انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب مصنوعی ذہانت کے بڑے پیمانے پر اقدامات شروع کرنے والا ملک کا پہلا صوبہ ہے اور اسے قومی سطح پر اے آئی، جدت اور ڈیجیٹل کاروباری سرگرمیوں کا مرکز بنانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت صرف کامیاب فری لانسرز ہی نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت کے ڈویلپرز، اسٹارٹ اپ بانیوں اور عالمی ٹیکنالوجی رہنماؤں کی نئی نسل تیار کرنا چاہتی ہے۔






