رپورٹس کے مطابق نرم سطحیں لیپ ٹاپ کے ایگزاسٹ وینٹس کو بند کر دیتی ہیں، جس سے ہوا کی روانی متاثر ہوتی ہے اور ڈیوائس زیادہ گرم ہونے لگتی ہے۔ اس صورتحال میں اندرونی پنکھے سسٹم کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے زیادہ رفتار سے کام کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں وقت کے ساتھ بیٹری اور دیگر اہم پرزے متاثر ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر لیپ ٹاپ کا پنکھا مسلسل تیز آواز کے ساتھ چل رہا ہو تو یہ اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ ڈیوائس غیر محفوظ درجہ حرارت تک پہنچ چکی ہے۔

ٹیکنالوجی ماہرین نے تجویز دی ہے کہ لیپ ٹاپ کو نرم سطحوں پر استعمال کرنے کے بجائے کولنگ پیڈ یا کولنگ میٹ استعمال کیا جائے۔ یہ آلات لیپ ٹاپ کے نیچے ٹھنڈی ہوا فراہم کرتے ہیں، جس سے درجہ حرارت متوازن رہتا ہے اور ہارڈ ویئر محفوظ رہتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر کولنگ پیڈ دستیاب نہ ہو تو لیپ ٹاپ کو کسی سخت اور ہموار سطح پر رکھنا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے ہارڈ باؤنڈ کتاب یا لیپ ٹاپ اسٹینڈ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ وینٹس بند نہ ہوں اور ہوا کی آمدورفت جاری رہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ گرد و غبار اور مٹی بھی لیپ ٹاپ کے اندرونی حصوں میں جمع ہو کر ہوا کے بہاؤ کو متاثر کرتی ہے۔ ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ کمپریسڈ ہوا کے ذریعے وقتاً فوقتاً وینٹس کی صفائی کی جائے تاکہ کولنگ سسٹم بہتر انداز میں کام کرتا رہے۔

اسی طرح ایک وقت میں زیادہ بھاری سافٹ ویئر یا گیمز چلانے سے بھی سسٹم پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ خاص طور پر اسٹریمنگ، چیٹنگ اور گرافکس سے بھرپور گیمز ایک ساتھ چلانے سے سی پی یو اور جی پی یو زیادہ گرم ہو سکتے ہیں، جس سے پنکھوں پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر ضروری بیک گراؤنڈ ایپلی کیشنز بند رکھنے، کولنگ پیڈ استعمال کرنے اور لیپ ٹاپ کو صاف رکھنے سے ڈیوائس کی عمر میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے مزید مشورہ دیا کہ اگر لیپ ٹاپ ضرورت سے زیادہ گرم ہو جائے اور ہاتھ لگانے میں بھی تکلیف محسوس ہو تو فوری طور پر اسے بند کر دینا چاہیے اور مکمل ٹھنڈا ہونے کے بعد دوبارہ استعمال کرنا چاہیے۔