بحر الکاہل دنیا کے سب سے اہم موسمیاتی نظاموں میں سے ایک ہے، جو اپنی بڑی حرارت اور سمندری دھاروں کے ذریعے نصف دنیا کے موسموں، بارشوں اور طوفانوں کے نظام کو متاثر کرتا ہے۔ جب اس خطے میں ’ال نینو‘ سرگرم ہوتا ہے تو یہ سمندر کی سطحی حرارت کو غیر معمولی طور پر بڑھا دیتا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی درجہ حرارت میں اضافہ، بارشوں کے نظام میں تبدیلی اور خشک سالی جیسے اثرات سامنے آتے ہیں۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ موجودہ عالمی حدت پہلے ہی گرین ہاؤس گیسوں کے باعث بڑھ رہی ہے، جبکہ ممکنہ طاقتور ’ال نینو‘ اس درجہ حرارت کو مزید بڑھا کر صنعتی دور سے پہلے کی سطح سے تقریباً 1.5 سے 1.7 ڈگری سیلسیس تک لے جا سکتا ہے۔

 اس نوعیت کے موسمیاتی واقعات صرف عارضی اثرات نہیں چھوڑتے بلکہ یہ ایسے "کلائمیٹ ریجیم شفٹس" کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتیجے میں بارش، گرمی اور خشک سالی کے عالمی پیٹرن طویل عرصے کے لیے تبدیل ہو جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ  ’ال نینو‘ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب بحر الکاہل کے مغربی حصے میں جمع ہونے والی گرم پانی کی بڑی مقدار ہواؤں اور سمندری دھاروں کی تبدیلی کے باعث مشرق کی طرف منتقل ہونا شروع کرتی ہے۔ یہ حرارت جب استوائی خطے میں پھیلتی ہے تو فضا میں توانائی منتقل کر کے عالمی موسم کو متاثر کرتی ہے۔

 ماضی میں بھی شدید موسمی واقعات کا باعث بنا ہے۔ 2015 کے ’ال نینو‘ نے عالمی درجہ حرارت کو غیر معمولی سطح تک پہنچایا تھا، جبکہ 2024 میں ریکارڈ گرم سال کے پیچھے بھی اسی رجحان کا کردار رہا۔

ماہر موسمیات جیمز ہینسن کا کہنا ہے کہ  اگر آنے والا ’ال نینو‘ درمیانے درجے سے بھی زیادہ طاقتور ثابت ہوتا ہے تو زمین کا اوسط درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کی سطح سے 1.7 ڈگری سیلسیس تک جا سکتا ہے، جو موسمیاتی نظام کے لیے خطرناک حد تصور کی جاتی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایک بار یہ حد عبور ہو گئی تو زمین دوبارہ مستقل طور پر 1.5 ڈگری کی محفوظ حد سے نیچے نہیں آ سکے گی، جس کے نتیجے میں ماحولیاتی نظام میں غیر متوقع اور تیز تبدیلیاں شروع ہو جائیں گی۔

رپورٹس کے مطابق اس صورتحال کے اثرات پہلے ہی دنیا کے مختلف حصوں میں نظر آ رہے ہیں۔ کہیں شدید بارشیں اور سیلاب، تو کہیں طویل خشک سالی اور جنگلاتی آگ میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ کیلیفورنیا کے آبی ذخائر، آسٹریلیا اور کیریبین میں مرجان کی چٹانوں کا متاثر ہونا، اور زرعی کیلنڈرز کی بے ترتیبی اسی موسمیاتی عدم توازن کی مثالیں ہیں۔

ایک تازہ تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ طاقتور ’ال نینو‘ کے اثرات بعض علاقوں میں دیرپا تبدیلیاں پیدا کر سکتے ہیں، جو اس کے ختم ہونے کے بعد بھی کئی برس تک برقرار رہ سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ  یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دنیا اب موسمیاتی عدم استحکام کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے، جہاں معمولی موسمی تبدیلیاں بھی بڑے عالمی اثرات کا باعث بن سکتی ہیں۔