تفصیلات کے مطابق اسٹیٹ بینک کی جانب سے پابندی کے خاتمے کے بعد کرپٹو اثاثوں کی ڈیلنگ کرنے والی کمپنیوں کو قانونی تحفظ حاصل ہو گیا ہے۔
اسٹیٹ بینک نے ورچو کل اثاثہ کمپنیوں کے لیے بینک اکاؤنٹس کھولنے کی اجازت دیدی#ARYNews pic.twitter.com/8IZHESqrFY
— ARY NEWS (@ARYNEWSOFFICIAL) April 15, 2026
اسٹیٹ بینک کی اجازت کے بعد بینکوں کو لائسنس یافتہ کرپٹو کمپنیوں کے اکاؤنٹس کھولنے کی اجازت بھی حاصل ہوگی۔
پابندی کے خاتمے سے پاکستان میں قانونی طور پر کرپٹو اور ڈیجیٹل کرنسی ٹریڈنگ کی راہ ہموار ہو گئی ہے، جبکہ دبئی اور دیگر ممالک میں مقیم پاکستانیوں کے کرپٹو اثاثے ملک میں واپس آنے کے امکانات بھی روشن ہو گئے ہیں۔





