خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایکس نے آسٹریلوی سینیٹ کی متعلقہ کمیٹی کو جمع کرائے گئے اپنے تحریری مؤقف میں کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے پیش کی جانے والی مجوزہ قانون سازی کئی ایسے قانونی اور تکنیکی مسائل کو جنم دے سکتی ہے جو آسٹریلیا کی حدود سے باہر کام کرنے والی کمپنیوں اور افراد کے لیے بھی پیچیدگیاں پیدا کریں گے۔

کمپنی نے مؤقف اختیار کیا کہ مجوزہ ترامیم کے تحت آسٹریلیا کے آن لائن سیفٹی ریگولیٹر کو غیر معمولی اختیارات دیے جا رہے ہیں، جن کے ذریعے وہ سوشل میڈیا کمپنیوں سے اضافی معلومات، ریکارڈ اور دستاویزات طلب کرسکے گا، جبکہ قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانے کی زیادہ سے زیادہ حد بڑھا کر 9 کروڑ 90 لاکھ آسٹریلوی ڈالر کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔

ایکس کے مطابق ان اختیارات کا دائرہ کار صرف آسٹریلیا تک محدود نہیں رہے گا بلکہ بعض صورتوں میں بیرون ملک موجود افراد یا اداروں کو بھی صرف کسی کمپنی سے وابستگی کی بنیاد پر معلومات فراہم کرنے کا پابند بنایا جاسکتا ہے، جو بین الاقوامی قوانین، مختلف ممالک کے قانونی دائرہ اختیار اور بنیادی قانونی اصولوں سے متصادم ہو سکتا ہے۔

کمپنی نے اپنے مؤقف میں مزید کہا کہ مجوزہ قانون سازی میں شفاف قانونی طریقہ کار، صارفین کی نجی معلومات کے تحفظ اور عالمی سطح پر کام کرنے والی آن لائن سروسز کے عملی مسائل کو مناسب اہمیت نہیں دی گئی۔ ایکس کا کہنا ہے کہ اگر ایسے قوانین نافذ کیے گئے تو ان کے اثرات صرف ایک کمپنی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری ڈیجیٹل معیشت اور بین الاقوامی ٹیکنالوجی سیکٹر کو بھی متاثر کرسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ آسٹریلیا نے گزشتہ برس دنیا کا پہلا ایسا قانون منظور کیا تھا جس کے تحت 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے استعمال پر پابندی عائد کی گئی۔ اس قانون کا مقصد بچوں کو آن لائن خطرات، نقصان دہ مواد اور سوشل میڈیا کے منفی اثرات سے محفوظ رکھنا بتایا گیا تھا۔

تاہم اس قانون کے اعلان کے بعد دنیا کی کئی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں، جن میں گوگل، ٹک ٹاک، میٹا اور ایکس شامل ہیں، نے مختلف سطح پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کمپنیوں کا مؤقف ہے کہ عمر کی تصدیق، صارفین کی شناخت اور ڈیٹا کے تحفظ سے متعلق کئی اہم قانونی اور تکنیکی مسائل ابھی تک حل طلب ہیں۔

ایلون مسک بھی اس قانون پر متعدد مواقع پر تنقید کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بظاہر یہ قانون بچوں کے تحفظ کے لیے بنایا گیا ہے، لیکن عملی طور پر اس سے تمام آسٹریلوی شہریوں کی انٹرنیٹ تک رسائی اور آن لائن سرگرمیوں پر بالواسطہ نگرانی اور کنٹرول کا راستہ ہموار ہوسکتا ہے۔

دوسری جانب آسٹریلیا کے آن لائن سیفٹی ریگولیٹر کا کہنا ہے کہ موجودہ قوانین کے تحت اس کے اختیارات محدود ہیں، جس کے باعث سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی جانب سے ضابطوں پر عمل درآمد کی مؤثر نگرانی میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ ریگولیٹر کے مطابق مجوزہ ترامیم کا بنیادی مقصد تحقیقات کے عمل کو مضبوط بنانا، کمپنیوں کو زیادہ جوابدہ بنانا اور بچوں کو آن لائن استحصال، ہراسانی اور دیگر ڈیجیٹل خطرات سے بہتر تحفظ فراہم کرنا ہے۔

حکام کے مطابق پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے بل پر ابھی حتمی فیصلہ ہونا باقی ہے، جبکہ آسٹریلوی سینیٹ کی متعلقہ کمیٹی 25 اگست کو اپنی سفارشات پیش کرے گی۔ ان سفارشات کی روشنی میں پارلیمنٹ مجوزہ قانون میں ممکنہ ترامیم یا اس کی حتمی منظوری سے متعلق فیصلہ کرے گی، جس پر عالمی ٹیکنالوجی صنعت اور ڈیجیٹل حقوق کی تنظیموں کی گہری نظر ہے۔