تفصیلات کے مطابق فالکن 9 راکٹ کے ذریعے امریکی کمپنی فائر فلائی ایرو اسپیس کا بلیو گھوسٹ لینڈر اور جاپانی کمپنی آئی اسپیس کا ریزیلینس لینڈر چاند کی جانب بھیجا گیا تھا۔

بلیو گھوسٹ نے مارچ 2025 میں کامیاب لینڈنگ کی، جبکہ ریزیلینس چند ماہ بعد لینڈنگ کے دوران ناکام ہوگیا تھا۔

ماہرین کے مطابق راکٹ کا پہلا مرحلہ لانچ کے بعد زمین پر واپس آ گیا تھا، تاہم دوسرا مرحلہ خلائی مشنز کو چاند کی سمت روانہ کرنے کے لیے استعمال ہوا اور خلا میں ہی موجود رہا۔

اسپیس ایکس میں ناسا سائنس اور ڈریگن پروگرامز کی ڈائریکٹر جولیانا شیمین کے مطابق زمین کے قریب مدار میں جانے والے مشنز کے بعد راکٹ کے بالائی حصے کو عموماً زمین کی فضا میں داخل کر کے جلا دیا جاتا ہے، تاہم زیادہ توانائی والے مشنز میں مختلف طریقہ کار اختیار کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس مشن میں بھی تمام حفاظتی اصولوں کے مطابق کارروائی کی گئی تھی، لیکن سورج کی سرگرمیوں اور کششِ ثقل کے مشترکہ اثرات نے راکٹ کے بالائی حصے کا راستہ تبدیل کر دیا، جس کے باعث اب وہ چاند سے ٹکرانے کی جانب بڑھ رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تصادم سے زمین کو کوئی خطرہ لاحق نہیں، تاہم سائنسی اعتبار سے یہ ایک اہم واقعہ ہے کیونکہ اس سے چاند کی سطح پر ہونے والے اثرات اور خلائی ملبے کی حرکت سے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔