تفصیلات کے مطابق یہ مشن امریکی وقت کے مطابق شام 5 بج کر 7 منٹ (پاکستانی وقت کے مطابق ہفتے کی صبح 5 بج کر 7 منٹ) پر سان ڈیاگو کے قریب بحرالکاہل میں اترے گا۔

واضح رہے کہ دسمبر 1972 کے بعد یہ پہلی بار ہے کہ خلا باز زمین کے نچلے مدار سے باہر نکل کر چاند کے مدار تک گئے۔

آرٹیمیس ٹو مشن کے اورین اسپیس کرافٹ میں چار خلا باز موجود ہیں، جنہوں نے اپریل 1970 میں اپولو 13 کے خلا بازوں کے دو لاکھ 48 ہزار 655 میل کے خلائی سفر کے ریکارڈ کو توڑا اور چاند کے اس حصے کا مشاہدہ کیا جو زمین سے نظر نہیں آتا۔

ان خلا بازوں نے 2 لاکھ 52 ہزار میل سے زائد کا فاصلہ طے کیا۔6 اپریل کو اورین اسپیس کرافٹ نے چاند کے مدار میں 6 گھنٹے تک پرواز کی۔

اس مشن کے دوران اورین اسپیس کرافٹ سے ہزاروں تصاویر لی گئیں، جو بتدریج سامنے آئیں گی۔

واضح رہے کہ 10 روزہ آرٹیمس ٹو مشن اس لحاظ سے تاریخی ہے کہ پہلی بار ایک سیاہ فام شخص کو چاند کے مدار میں بھیجا گیا ہے، جب کہ پہلی بار ایک خاتون اور ایک غیر امریکی فرد کو بھی مشن کا حصہ بنایا گیا ہے۔

اس سے قبل نومبر 2022 میں آرٹیمیس ون مشن چاند پر جا کر زمین پر واپس آنے میں کامیاب رہا تھا، مگر اس مشن میں کوئی انسان موجود نہیں تھا۔

2028 میں آرٹیمیس تھری مشن کو روانہ کیا جائے گا، جس میں سوار خلا باز چاند کی سطح پر قدم رکھیں گے۔

آرٹیمیس تھری مشن میں سوار خلا باز چاند کے قطبِ جنوبی پر اتریں گے، جہاں اب تک کبھی انسان نے قدم نہیں رکھا۔