رپورٹس کے مطابق یہ خلائی مشن تقریباً 10 دن تک خلا میں جاری رہا، جس دوران عملے نے زمین کے گرد دو مداروں میں گردش کرتے ہوئے تقریباً 6 لاکھ 94 ہزار میل سے زائد کا فاصلہ طے کیا۔ ماہرین کے مطابق یہ انسان کی نصف صدی سے زائد عرصے بعد چاند کے قریب ترین خلا میں واپسی کے اہم ترین مراحل میں سے ایک تھا۔

خلابازوں کو واپس زمین پر لانے والا کیپسول امریکی وقت کے مطابق شام کے قریب جنوبی کیلیفورنیا کے ساحل کے نزدیک بحرالکاہل میں پیراشوٹوں کی مدد سے اترا۔ ناسا کے مطابق لینڈنگ کا مرحلہ نہایت حساس تھا کیونکہ واپسی کے دوران کیپسول کو زمین کی فضا میں داخل ہوتے وقت انتہائی بلند درجہ حرارت کا سامنا کرنا پڑا۔

ناسا حکام نے اس لمحے کو “بلز آئی سپلیش ڈاؤن” قرار دیتے ہوئے کہا کہ لینڈنگ کا منظر انتہائی کامیاب اور متوقع معیار کے مطابق تھا۔ جیسے ہی کیپسول پانی میں اترا، امریکی بحریہ کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا جو دو گھنٹے سے بھی کم وقت میں مکمل کر لیا گیا۔

مشن کمانڈر ریڈ وائزمین نے لینڈنگ کے فوری بعد ریڈیو رابطے میں پیغام دیا کہ “ہم چاروں محفوظ ہیں”، جس پر کنٹرول روم میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ ابتدائی طبی معائنے کے بعد ڈاکٹروں نے تصدیق کی کہ تمام خلابازوں کی حالت بہتر اور مستحکم ہے۔

ماہرین کے مطابق مشن کے دوران سب سے نازک مرحلہ وہ تھا جب کیپسول زمین کی فضا میں داخل ہو رہا تھا، کیونکہ اس دوران اس کی رفتار انتہائی تیز اور درجہ حرارت ہزاروں ڈگری تک پہنچ جاتا ہے۔ اس مرحلے پر کچھ دیر کے لیے مواصلاتی رابطہ منقطع ہو گیا تھا، تاہم جلد ہی پیراشوٹ سسٹم فعال ہونے کے بعد رابطہ بحال ہو گیا۔

رپورٹس کے مطابق یہ مشن یکم اپریل کو فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے روانہ ہوا تھا، جہاں ہزاروں افراد نے اس تاریخی لمحے کا مشاہدہ کیا۔ یہ وہی مقام ہے جہاں ماضی میں اپالو مشنز چاند کی جانب روانہ ہوتے تھے۔

مشن میں تین امریکی اور ایک کینیڈین خلاباز شامل تھے، جنہوں نے ایک 32 منزلہ راکٹ کے ذریعے خلا کا سفر شروع کیا۔ ناسا کا کہنا ہے کہ یہ پرواز آئندہ چند برسوں میں انسانوں کی چاند پر باقاعدہ واپسی کے منصوبے کی بنیاد فراہم کرے گی، جس کے تحت 2028 تک دوبارہ چاند کی سطح پر لینڈنگ کا ہدف رکھا گیا ہے۔

خلائی ادارے کے مطابق آرٹیمس ٹو مشن نہ صرف سائنسی تحقیق میں سنگ میل ہے بلکہ یہ مستقبل میں مریخ اور گہرے خلا کے مشنز کی تیاری کے لیے بھی ایک اہم تجربہ ثابت ہوگا۔

خلابازوں کی کامیاب واپسی پر ناسا اور عالمی خلائی برادری میں خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ ماہرین اسے انسانیت کے خلائی سفر میں ایک نئے دور کے آغاز سے تعبیر کر رہے ہیں۔