جرمنی کا میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ برائے ارتقائی انسانیات کی تازہ تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں یہ حقیقت تسلیم کی جاتی ہے کہ خواتین مردوں کے مقابلے میں زیادہ عرصہ زندہ رہتی ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ محققین نے 528 ممالیہ اور 648 پرندوں کی اقسام کا ڈیٹا جمع کر کے تجزیہ کیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ تقریباً 72 فیصد ممالیہ اقسام میں مادہ جانور نر کے مقابلے میں اوسطاً 13 فیصد زیادہ عمر پاتے ہیں۔
پرندوں میں صورتحال مختلف نکلی۔ تحقیق کے مطابق تقریباً 68 فیصد پرندوں میں نر، مادہ کے مقابلے میں زیادہ عرصے تک زندہ رہتے ہیں اور یہ فرق اوسطاً 5 فیصد کے قریب ہے۔
ماہرین نے مادہ کی طویل عمر کی تین بڑی وجوہات بیان کی ہیں۔ پہلی جینیاتی تحفظ ہے کیونکہ مادہ کے پاس دو X کروموسوم ہوتے ہیں جو انہیں کئی بیماریوں سے محفوظ رکھتے ہیں۔ دوسری وجہ نر جانوروں کی خطرناک عادات ہیں جیسے طاقت کے مقابلے، لڑائیاں اور جوڑے کے حصول کے لیے خطرہ مول لینا۔ تیسری وجہ مادہ کا دیکھ بھال والا کردار ہے جو اسے زیادہ محتاط اور کم خطرہ لینے والا بناتا ہے۔
یاد ہے کہ انسانوں میں بھی یہی رجحان پایا جاتا ہے۔ امریکا سمیت کئی ممالک میں خواتین مردوں سے اوسطاً چھ سال زیادہ جیتی ہیں۔ سائنس دانوں کے مطابق مردوں کی شراب نوشی، تمباکو کا استعمال، ذہنی دباؤ اور صحت سے غفلت ان کی عمر کو کم کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مرد مثبت طرزِ زندگی اپنائیں، باقاعدہ طبی معائنے کروائیں، خطرناک عادات ترک کریں، متوازن غذا کھائیں اور ورزش کو معمول بنائیں تو وہ اس فرق کو کم کر سکتے ہیں۔ خواتین کی لمبی عمر محض قدرت کا تحفہ نہیں بلکہ جینیاتی نظام، احتیاط اور طرزِ زندگی کا مجموعہ ہے۔





