امریکی ٹیکنالوجی کمپنی کی جانب سے تیار کیا جانے والا یہ منفرد سسٹم روایتی دماغی امپلانٹس سے مختلف ہے۔ جہاں ماضی میں چپس کو دماغ کے اندر نصب کیا جاتا تھا، وہیں اس نئی ٹیکنالوجی میں سینسر کو دماغ کی سطح پر رکھا جائے گا، جس سے سرجری کے خطرات میں نمایاں کمی متوقع ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سسٹم میں لیبارٹری میں تیار کردہ نیورونز اور جدید الیکٹرانک سرکٹس کو یکجا کیا گیا ہے، جو دماغ اور کمپیوٹر کے درمیان رابطے کو مزید مؤثر بنا سکتے ہیں۔ اس پیش رفت کو دماغی بیماریوں کے علاج میں ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
Science Corp wants to grow neurons inside your skull. They fuse with your own brain cells and speak electronics natively. https://t.co/ivSOZlT6qB
— TNW (@thenextweb) April 15, 2026
طبی ماہرین کے مطابق اس ٹیکنالوجی کے ذریعے نہ صرف بینائی سے محروم افراد کو دوبارہ دیکھنے میں مدد مل سکتی ہے بلکہ فالج، یادداشت کی کمزوری اور دیگر اعصابی امراض کے علاج میں بھی نئی امیدیں پیدا ہو رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: ڈیجیٹل شناخت کی تصدیق کے لیے نادرا اور آئیڈنٹیٹی 360 کے درمیان معاہدہ طے پا گیا
دوسری جانب کچھ ماہرین نے اس پیش رفت پر محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ انسانی دماغ میں کسی بھی قسم کی مداخلت کے طویل المدتی اثرات کو سمجھنا نہایت ضروری ہے، اس لیے مزید تحقیق اور تجربات ناگزیر ہوں گے۔
ٹیکنالوجی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو جاتا ہے تو مستقبل میں انسان اور مشین کے درمیان رابطے کا تصور یکسر بدل سکتا ہے، اور یہ ایجاد صحت کے شعبے سمیت کئی دیگر میدانوں میں انقلاب برپا کر سکتی ہے۔







