اس بیان میں ینتھروپک کو شامل نہیں کیا گیا، جس کا پینٹاگون کے ساتھ اس کے آرٹیفیشل انٹیلیجنس ٹولز کے فوجی استعمال پر حفاظتی ضوابط کے حوالے سے تنازع چل رہا ہے۔
پینٹاگون نے اس اے آئی اسٹارٹ اپ کو، جو پہلے دفاعی محکمے میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا تھا، رواں سال کے اوائل میں "سپلائی چین کے لیے خطرہ" قرار دیتے ہوئے پینٹاگون اور اس کے ٹھیکیداروں کی جانب سے اس کے استعمال پر پابندی عائد کر دی تھی۔
پینٹاگون کا کہنا ہے کہ اسپیس ایکس اوپن اے آئی گوگل، این ویڈیا ریفلیکشن مائیکروسافٹ اور ایمیزون ویب سروسز کو اس کے خفیہ اور انتہائی خفیہ نیٹ ورک ماحول میں ضم کیا جائے گا۔ ان میں سے کئی کمپنیاں پہلے ہی پینٹاگون کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ اس اقدام سے فوج کو حساس موضوعات پر ان مصنوعات تک مزید رسائی حاصل ہوگی۔ نسبتاً کم معروف کمپنی ریفلیکشن اے آئی نے اکتوبر میں 2 ارب ڈالر جمع کیے تھے اور اسے 1789 کیپیٹل کی حمایت حاصل ہے، جو ایک وینچر کیپیٹل فرم ہے جس میں ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر پارٹنر اور سرمایہ کار ہیں۔
مارچ میں اینتھروپک کی مصنوعات کو "سپلائی چین کا خطرہ" قرار دیے جانے اور دونوں فریقین کے درمیان قانونی چارہ جوئی شروع ہونے کے بعد سے، فوج نے اے آئی اسٹارٹ اپس میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔
اس تنازع کے بعد سے، اے آئی کے نئے آنے والوں کا کہنا ہے کہ فوج نے انہیں خفیہ اور انتہائی خفیہ ڈیٹا کی سطحوں پر شامل کرنے کے عمل کو تیز کر کے تین ماہ سے بھی کم کر دیا ہے۔ اس سے قبل یہ عمل 18 ماہ یا اس سے زیادہ وقت لیتا تھا۔
پینٹاگون نے اپنے بیان میں کہا کہ فوجیوں کو فراہم کی جانے والی اے آئی خدمات کو وسعت دے کر—جو اسے منصوبہ بندی، لاجسٹکس، نشانہ بازی اور دیگر کاموں کو ہموار کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں—وہ "وینڈر لاک" (کسی ایک فراہم کنندہ پر انحصار) سے بچ سکیں گے۔ یہ ممکنہ طور پر اینتھروپک یا دیگر غالب سروس فراہم کنندگان پر ان کے ضرورت سے زیادہ انحصار کی طرف اشارہ ہے۔
پینٹاگون کے عملے، سابق حکام اور آئی ٹی ٹھیکیداروں نے رائٹرز کو بتایا کہ وہ اینتھروپک کے اے آئی ٹولز چھوڑنے میں ہچکچاہٹ محسوس کر رہے ہیں، کیونکہ وہ انہیں دیگر متبادلات سے بہتر سمجھتے ہیں، حالانکہ انہیں اگلے چھ ماہ میں ان ٹولز کو ہٹانے کے احکامات دیے گئے ہیں۔
اے آئی امریکی فوج کے لیے تیزی سے اہم ہو گیا ہے۔
گوگل، جسے پینٹاگون پہلے ہی استعمال کر رہا ہے، نے ایک ایسے معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت محکمہ دفاع اس کے اے آئی ماڈلز کو خفیہ کاموں کے لیے استعمال کر سکے گا۔
محکمہ دفاع کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر ایمل مائیکل نے جمعہ کو سی این بی سی کو بتایا کہ اینتھروپک اب بھی سپلائی چین کے لیے ایک خطرہ ہے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ مائیتھوس کمپنی کا وہ اے آئی ماڈل جس کی جدید سائبر صلاحیتوں نے ہیکرز کو طاقتور بنانے کی وجہ سے امریکی حکام اور کارپوریٹ دنیا میں کھلبلی مچا دی تھی—ایک "علاحدہ قومی سلامتی کا معاملہ" تھا۔
اگرچہ متعدد کمپنیوں اور سرکاری و نجی اداروں نے اپنے آئی ٹی انفراسٹرکچر کو مستقبل کے سائبر حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے مائیتھوس کے پری ویو پروڈکٹ تک رسائی حاصل کر لی ہے، لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ پینٹاگون اس پروگرام کا حصہ ہے یا نہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ اینتھروپک ان کی انتظامیہ کی نظر میں "بہتری کی طرف مائل" ہے، جس سے اس اے آئی کمپنی کے لیے پینٹاگون کی بلیک لسٹ سے نکلنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔







