عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق مارچ کے دوران بی وائے ڈی کی گاڑیوں کی فروخت سال بہ سال بنیاد پر 20.5 فیصد کم ہو کر 300,222 یونٹس تک محدود رہی ہے۔ اگرچہ یہ کمی فروری میں ریکارڈ ہونے والی 41.1 فیصد کمی کے مقابلے میں نسبتاً کم ہے۔ یہ اعداد و شمار کمپنی کی سابقہ فائلنگ اور ایگزیکٹو لی یونفی کی ویبو پوسٹ کی بنیاد پر مرتب کیے گئے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں کمپنی کی مجموعی فروخت گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 30 فیصد کم رہی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بی وائے ڈی کو اپنی مقامی مارکیٹ میں سخت مسابقت کا سامنا ہے، جہاں گیلی اور لیپ موٹر جیسے حریف تیزی سے اپنی موجودگی بڑھا رہے ہیں۔ 

بڑھتی ہوئی مسابقت کے پیش نظر کمپنی نے حال ہی میں اپنی بیٹری ٹیکنالوجی میں بڑی اپ گریڈ متعارف کرائی ہے، جو کئی برسوں بعد پہلی بڑی پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔

کمپنی کی نئی گاڑیوں کی لائن اپ، جن کی قیمت 150,000 یوآن (تقریباً 21,721 امریکی ڈالر) سے زائد ہے، چین کی انتہائی مسابقتی الیکٹرک وہیکل مارکیٹ میں ایک اہم حد سمجھی جاتی ہے۔ 

تاہم ماہرین کے مطابق اس قیمت کی سطح پر فروخت میں نمایاں اضافے کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں، کیونکہ صارفین اب بھی نسبتاً سستے ماڈلز کو ترجیح دے رہے ہیں۔

گزشتہ سال کمپنی کے منافع کے مارجن میں بھی کمی دیکھی گئی، جب کہ اس کا سالانہ منافع چار برسوں میں پہلی مرتبہ کم ہوا، جو مارکیٹ توقعات سے بھی کم رہا۔

تاہم بیرون ملک فروخت کمپنی کے لیے مثبت پہلو بنی ہوئی ہے۔ پہلی سہ ماہی کے دوران بیرون ملک فروخت 320,673 گاڑیوں تک پہنچ گئی، جو مجموعی فروخت کا تقریباً 45.8 فیصد بنتی ہے۔

دوسری جانب کمپنی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ 2026 تک بیرون ملک 15 لاکھ گاڑیاں فروخت کرنے کے ہدف کے حصول کے لیے انتہائی پُراعتماد ہے۔