محققین کے مطابق نیسکوڈ نامی یہ جدید نظام روایتی ایئر کنڈیشنرز کا متبادل ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی نہ صرف بجلی کے بغیر کام کرتی ہے بلکہ عام دستیاب مواد اور شمسی توانائی کو استعمال کرتے ہوئے ماحول کو ٹھنڈا رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی گرمی کے تناظر میں یہ ایک اہم پیش رفت ہے، کیونکہ روایتی کولنگ سسٹمز بجلی پر انحصار کرتے ہیں اور توانائی کے بحران کو مزید بڑھاتے ہیں۔
نیسکوڈ دراصل No Electricity Sustainable Cooling on Demand کا مخفف ہے۔ اس ٹیکنالوجی کو پروفیسر پینگ وانگ کی سربراہی میں ماہرین کی ایک ٹیم نے تیار کیا، جس کی تفصیلات معروف سائنسی جریدے انرجی اینڈ انوائرمنٹل سائنس میں شائع کی گئی ہیں۔
یہ نظام روایتی ایئر کنڈیشنرز کے برعکس بھاری مقدار میں بجلی استعمال نہیں کرتا، بلکہ امونیم نائٹریٹ پر مبنی ایک کیمیائی عمل کے ذریعے ٹھنڈک پیدا کرتا ہے۔ یہ مادہ، جو عام طور پر کھادوں میں استعمال ہوتا ہے، اپنے اردگرد کے ماحول سے حرارت جذب کر کے درجہ حرارت کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
یہ نظام کیسے کام کرتا ہے؟
جب امونیم نائٹریٹ حرارت جذب کرتا ہے تو یہ پانی میں حل ہو کر ٹھنڈک پیدا کرتا ہے۔ بعد ازاں شمسی توانائی کے ذریعے پانی کو بخارات میں تبدیل کیا جاتا ہے، جس سے نمک دوبارہ کرسٹل کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور یوں اسے دوبارہ استعمال کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔ اس طرح یہ کولنگ سائیکل بغیر بجلی کے مسلسل جاری رہتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ سادہ کیمیائی اصول اور قابلِ تجدید توانائی کا امتزاج ہے، جو اسے ایک مؤثر اور ماحول دوست حل بناتا ہے۔
دنیا کے مختلف ممالک میں درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ کولنگ کی طلب تیزی سے بڑھ رہی ہے، جب کہ روایتی ایئر کنڈیشنرز نہ صرف زیادہ بجلی استعمال کرتے ہیں بلکہ کاربن اخراج میں بھی اضافہ کرتے ہیں۔
AC Is Not Needed Anymore? This New Cooling System Uses No Electricity
— Startup Pakistan (@PakStartup) April 27, 2026
Read More: https://t.co/f8YmdYoX0C
Disclaimer: This post is for informational purposes only. The image used is AI-generated and for reference purposes only. Please verify product claims, performance, and… pic.twitter.com/miS1uRMDij
نیسکوڈ جیسے نظام خاص طور پر ان علاقوں کے لیے مفید ثابت ہو سکتے ہیں جہاں بجلی مہنگی، غیر مستحکم یا دستیاب ہی نہیں ہوتی۔ کم آمدنی والے طبقات کے لیے بھی یہ ایک قابلِ رسائی متبادل بن سکتا ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق اس ٹیکنالوجی کے استعمالات صرف گھروں تک محدود نہیں بلکہ اس سے درج ذیل شعبوں میں بھی فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے جیسے خوراک کو محفوظ رکھنے میں، ادویات اور ویکسین کے ذخیرے میں، درجہ حرارت حساس اشیاء کی ترسیل میں اور دور دراز اور آفت زدہ علاقوں میں ہنگامی کولنگ کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی دیہی علاقوں اور قدرتی آفات سے متاثرہ خطوں میں خاص طور پر اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
ماحولیاتی تبدیلی کے باعث گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ سستی اور مؤثر کولنگ اب صحتِ عامہ کا ایک بڑا مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ نیسکوڈ جیسی اختراعات توانائی کے نظام پر دباؤ ڈالے بغیر اس مسئلے کا حل پیش کر سکتی ہیں۔
واضح رہے کہ اگر اس ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر کامیابی سے متعارف کرا دیا گیا تو یہ مستقبل میں دنیا کے ٹھنڈا رہنے کے طریقوں کو یکسر تبدیل کر سکتی ہے۔







