خبررساں ادارے دا اکنامسٹ کی رپورٹس کے مطابق بیجنگ موٹر شو 2024 کے مقابلے میں تقریباً دوگنا بڑا تھا، جہاں قریباً 180 نئی گاڑیاں پیش کی گئیں۔ 3 مئی کو اختتام پذیر ہونے والے اس ایونٹ نے ظاہر کیا کہ غیر ملکی کار ساز مستقبل کی دوڑ میں اپنے چینی حریفوں سے پیچھے رہ گئے ہیں۔

نمائش کے دوران یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ بڑی عالمی کمپنیوں نے خود کو چینی انداز کے مطابق ڈھالنا شروع کر دیا ہے۔ ووکس ویگن اور مرسڈیز کی تقریبات میں مغربی منتظمین انگریزی کے ساتھ ساتھ مینڈارن زبان استعمال کرتے نظر آئے، جب کہ تقریبات میں چینی موسیقی اور ثقافتی عناصر کو بھی نمایاں کیا گیا۔

ماہرین کے مطابق مارکیٹ شیئر میں مسلسل کمی کے باعث عالمی کار ساز چینی کمپنیوں کے ماڈل کو اپنانے پر مجبور ہیں۔ رینالٹ کے چیف ایگزیکٹو فرانسوا پرووسٹ کا کہنا ہے کہ چین اس وقت ٹیکنالوجی، رفتار اور مسابقت میں صنعت کی قیادت کر رہا ہے، جس کا مقابلہ کرنے کے لیے عالمی کمپنیوں کو نئے طریقے اپنانا ہوں گے۔

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں میں چین میں غیر ملکی کمپنیوں کا مارکیٹ شیئر کم ہو کر 2025 میں تقریباً 30 فیصد رہ گیا ہے۔ اسی دوران چین 2023 میں جاپان کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کا سب سے بڑا کار برآمد کنندہ بن گیا، جب کہ 2025 میں اس کی برآمدات 80 لاکھ گاڑیوں سے تجاوز کر گئیں۔

چینی گاڑیاں کم قیمت اور جدید ٹیکنالوجی کی بدولت عالمی منڈیوں میں تیزی سے جگہ بنا رہی ہیں۔ مقامی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اشتراک سے تیار کردہ سافٹ ویئر، خصوصاً آواز سے کنٹرول ہونے والے مصنوعی ذہانت کے نظام، مسابقت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

دوسری جانب چین میں گاڑیوں کی تیاری کی رفتار بھی نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ جہاں روایتی کار ساز نئے ماڈلز تیار کرنے میں 40 سے 80 ماہ لیتے ہیں، وہیں چینی کمپنیاں یہ عمل تقریباً 24 ماہ میں مکمل کر لیتی ہیں۔

اسی تناظر میں عالمی کمپنیاں چین میں تحقیق و ترقی کے مراکز قائم کر رہی ہیں اور مقامی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری بڑھا رہی ہیں۔ ووکس ویگن، ٹویوٹا، بی ایم ڈبلیو اور نسان سمیت کئی بڑی کمپنیوں نے چینی ٹیکنالوجی اداروں کے ساتھ تعاون شروع کر دیا ہے۔

تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ چینی کمپنیوں پر زیادہ انحصار طویل مدت میں خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ کنسلٹنسی ادارے گارٹنر کے ماہر پیڈرو پچیکو کے مطابق چین کی رفتار ایک مخصوص ذہنیت کا نتیجہ ہے، جسے اپنانا ہر کمپنی کے لیے آسان نہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر غیر ملکی کار ساز محتاط نہ رہے تو وہ اپنی تکنیکی خودمختاری کھو سکتے ہیں اور اپنے ہی حریفوں کو مضبوط بنانے کا سبب بن سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ عالمی آٹو موبائل صنعت اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑی ہے، جہاں کمپنیوں کو تیز رفتار جدت اور خودمختاری کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔