سرکاری حکام کے مطابق پاکستان کے خلائی پروگرام میں ایک اہم سنگ میل عبور ہونے جا رہا ہے۔ ملک کا پہلا ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ ایچ ایس ون 19 اکتوبر کو چین سے لانچ کیا جائے گا۔ یہ سیٹلائٹ زراعت، ماحولیاتی تحقیق اور شہری منصوبہ بندی میں نئی راہیں کھولے گا۔
ترجمان کے مطابق ایچ ایس ون جدید ڈیٹا کیلیبریشن اور زمین کے استعمال سے متعلق درست معلومات فراہم کرے گا جس سے زراعت کے شعبے میں نمایاں بہتری آئے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے فصلوں کی پیداوار میں 15 سے 20 فیصد اضافہ متوقع ہے۔
ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ قدرتی آفات جیسے سیلاب، لینڈ سلائیڈز اور دیگر ماحولیاتی خطرات کی پیشگوئی میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔ اس سے ارضیاتی تبدیلیوں اور ماحولیاتی اثرات کی بروقت نگرانی ممکن ہو سکے گی۔
سرکاری حکام کے مطابق ایچ ایس ون مشن انفراسٹرکچر میپنگ اور شہری منصوبہ بندی کے لیے نئی راہیں کھولے گا۔ یہ منصوبہ پاکستان کی قومی خلائی پالیسی اور وژن 2047 کا اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کا خلائی پروگرام جدید سائنسی ایپلی کیشنز کے نئے دور میں داخل ہو رہا ہے جو ملکی ترقی، موسمیاتی تحفظ اور ٹیکنالوجی میں خودکفالت کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔





