کچھ لوگ صرف عہدوں سے نہیں پہچانے جاتے، وہ اپنے کردار، اپنی جدوجہد اور اپنے خلوص سے تاریخ کے اوراق میں اپنا نام رقم کر جاتے ہیں۔ امیر العظیم بھی انہی میں سے ایک نام تھے۔

کینسر جیسے موذی مرض سے برسوں لڑنے کے بعد، آخرکار وہ اپنے رب کے حضور پیش ہو گئے۔ ان کی رحلت کی خبر نے صرف جماعت اسلامی کے کارکنوں کو نہیں بلکہ سیاسی، سماجی اور صحافتی حلقوں کو بھی سوگوار کر دیا، کیونکہ امیر العظیم کا حلقہ اثر کسی ایک جماعت یا نظریے تک محدود نہ تھا۔ ان کی نرم خوئی اور خوش اخلاقی نے ہر میدان میں انہیں محبت کرنے والے پیدا کیے۔

1958ء میں لاہور کی سرزمین پر آنکھ کھولنے والا یہ بچہ، اسکول کے زمانے سے ہی اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ ہو گیا تھا۔ اسلامیہ اسکول سنت نگر سے میٹرک، اسلامیہ کالج ریلوے روڈ سے ایف ایس سی، اور پھر فزکس ڈبل میتھ میں بی ایس سی کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے ایم بی اے۔ یہ تعلیمی سفر محض ڈگریوں کا حصول نہیں تھا، بلکہ ایک ایسی شخصیت کی تشکیل تھی جو آگے چل کر لاکھوں دلوں پر راج کرنے والی تھی۔

پنجاب یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کے منتخب صدر اور پھر اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظمِ اعلیٰ کے طور پر انہوں نے جو قیادت کی صلاحیت دکھائی، وہ محض ایک آغاز تھا۔

ضیاء الحق کے آمرانہ دور میں جب طلبہ یونینز پر پابندی لگی، تو امیر العظیم نے خاموشی سے یہ ظلم قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے یونین کی بحالی کے لیے لانگ مارچ کیا، اور اس جرات کی قیمت جیل کی سلاخوں کے پیچھے چکائی۔ لیکن یہی وہ زندان تھا جہاں سے انہیں اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظمِ اعلیٰ کے طور پر منتخب کیا گیا۔ گویا جبر نے انہیں مزید مضبوط کر دیا۔

برسوں بعد، وکلاء تحریک کے دوران بھی وہ صف اول میں کھڑے نظر آئے۔ چیف جسٹس کی بحالی کے لانگ مارچ میں پولیس کی برسائی گئی آنسو گیس کا شیل ان کے سر پر آ لگا۔ زخم گہرا تھا، اور اس کا نشان تاحیات ان کے ماتھے پر ایک خاموش گواہی کی طرح باقی رہا۔ اس عزم کی گواہی جو کبھی ظلم کے سامنے نہ جھکا۔

2002ء کے ضمنی انتخابات میں جب امیر العظیم نے لاہور کی صوبائی نشست پر متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے قدم رکھا، تو ان کی انتخابی مہم نے مخالفین کو بھی متاثر کیا۔ مسلم لیگ نواز نے ان کے حق میں اپنا امیدوار دستبردار کروا لیا۔ فتح ان کا مقدر بن چکی تھی، مگر اس وقت کے حکمرانوں کی دھاندلی نے ان کی واضح جیت کو شکست میں بدل دیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جہاں نظام نے ہار مانی، کردار نے نہیں۔

جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات سے لے کر لاہور کے سیکرٹری جنرل اور امیر، پھر وسطی پنجاب کے امیر، اور بالآخر 2019ء میں امیر جماعت اسلامی سراج الحق کی جانب سے مرکزی مجلس شوریٰ کے مشورے سے مرکزی سیکرٹری جنرل کے عہدے پر تقرری — یہ سفر کسی ایک منصب کی طلب نہیں بلکہ ایک نظریے سے کامل وابستگی کی داستان ہے۔

فیوچر ویژن کمیونیکیشن کے چیف ایگزیکٹو کے طور پر بھی انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا، مگر ان کی اصل پہچان ایک بہترین منتظم اور مربی کی تھی۔ جماعت اسلامی کے ان گنت کارکن ان کے دعوتی، تربیتی اور تنظیمی خطابات سے فکری غذا پاتے رہے، اور یہ سلسلہ ان کی زندگی کے آخری دن تک جاری رہا۔

آج جماعت اسلامی اپنے ایک بے مثال رہنما سے محروم ہو گئی، مگر ان کی محنت، ان کی تربیت، اور ان کے کردار کی روشنی ان کے پیچھے چھوڑے گئے کارکنوں میں تاحیات زندہ رہے گی۔