میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے بطور سابق وزیرِاعلیٰ اس امر کی تصدیق کی کہ صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے پاس دستاویزی ثبوت موجود ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ٹی ٹی پی افغانستان سے اپنی سرگرمیاں منظم کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ تمام سرگرمیاں افغان حکومت اور تحریکِ طالبان افغانستان کے علم میں ہیں اور ان کی مبینہ حمایت کے بغیر ممکن نہیں، خیبر پختونخوا میں پیش آنے والے دہشتگردی کے متعدد واقعات میں افغان شہری ملوث پائے گئے، جبکہ کئی کارروائیوں کے بعد افغان شہریوں کی گرفتاری بھی عمل میں آئی۔

مزید پڑھیں: اگر کسی کو دہشت گردوں سے ہمدردی ہے تو وہ افغانستان تشریف لے جائے، طلال چوہدری

انہوں  نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف مؤثر حکمتِ عملی کے لیے زمینی حقائق کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک دہشتگرد نیٹ ورکس اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف فیصلہ کن اقدامات نہیں کیے جاتے، امن کا قیام ممکن نہیں ہوگا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل خیبر پختونخوا کے موجودہ وزیرِاعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا تھا کہ ریاست کو یہ ثابت کرنے کے لیے شواہد سامنے لانے چاہئیں کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان میں دہشتگردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ علی امین گنڈاپور کے بیان کو اسی تناظر میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

سیاسی اور سکیورٹی ماہرین کے مطابق اس معاملے پر وفاق اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی اور واضح پالیسی کی ضرورت ہے تاکہ دہشتگردی کے مسئلے کا مستقل حل نکالا جا سکے اور خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔