گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی نے معاشی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد شرحِ سود میں کوئی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں مہنگائی میں نمایاں کمی آئی ہے۔ جولائی سے فروری تک اوسط مہنگائی کی شرح 5.5 فیصد رہی، جبکہ مالی سال 2026 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 13 کروڑ 90 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔ ان کے مطابق مالی سال 2027 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے صفر سے ایک فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ دسمبر 2026 تک ترسیلات زر 20.20 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی معاشی چیلنجز کے باوجود برآمدات اور بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات زر ملکی معیشت کے اہم ستون ہیں، جبکہ حکومتی اقدامات سے آئندہ مالی سال میں برآمدات میں مزید بہتری آنے کی امید ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں گزشتہ چار ماہ کے دوران 30 کروڑ ڈالر موصول ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق رواں مالی سال درآمدات میں اضافہ متوقع ہے، تاہم بیرونی رقوم کی آمد بھی مضبوط رہے گی۔

جمیل احمد کا کہنا تھا کہ تمام بیرونی ادائیگیوں کے باوجود پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ مالی سال 2027 کے دوران ملک کو 21.5 ارب ڈالر کے بیرونی قرضوں کی ادائیگیاں کرنا ہوں گی۔