وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے نجی ٹی وی ’جیو نیوز‘ سے گفتگو میں کہا ہے کہ ایمرجنسی کےاطلاق پر آئین بہت واضح ہے۔
انہوں نے کہا کہ حالات ایسے ہیں کہ آئین تقاضا کرے، خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی لگے تو بالکل لگنی چاہیے اور لگےگی بھی، جو آئین میں درج ضروریات ہیں وہ پوری ہوں تو بالکل یہ سب ہوگا
اس سے قبل وفاقی وزیر برائے کشمیر و گلگت بلتستان امور انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت سیاسی معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم عمران خان کی رہائی کو مذاکرات کا حصہ نہیں بنایا جاسکتا، عمران خان کو عدالتوں سے سزائیں ہوئی ہیں اور ان کی رہائی کا فیصلہ بھی قانونی اور عدالتی طریقہ کار کے تحت ہی ہوسکتا ہے۔
پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امیر مقام نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور پاکستان تحریک انصاف کے سیاسی مؤقف پر بھی سخت تنقید کی، سہیل آفریدی اور ان کی جماعت کو صوبے میں عوامی حمایت حاصل نہیں رہی، جبکہ صوبائی حکومت کو انتظامی اور عوامی مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت مذاکرات سے انکار نہیں کررہی، تاہم بات چیت کے لیے ایک باقاعدہ طریقہ کار اور واضح ایجنڈا ضروری ہے، مذاکرات کا مقصد سیاسی اور انتظامی معاملات پر بات چیت ہوسکتی ہے، لیکن کسی سزا یافتہ شخص کی رہائی کا فیصلہ مذاکرات کے ذریعے نہیں کیا جاسکتا۔
امیر مقام نے کہا کہ عمران خان کو عدالتوں نے سزا سنائی ہے، اس لیے وفاقی حکومت کے پاس انہیں رہا کرنے کا اختیار نہیں، اگر قانونی طور پر رہائی بنتی ہے تو وہ متعلقہ عدالتی اور قانونی عمل کے ذریعے ہی ممکن ہوگی۔
قبل ازیں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے ڈی آئی خان کے امن میلہ چیک پوسٹ پر ہونے والے دہشتگرد حملے کے تناظر میں افغانستان سے مبینہ طور پر آنے والے دہشتگرد نیٹ ورکس اور خیبرپختونخوا حکومت کی سیکیورٹی پالیسی پر سخت سوالات اٹھائے ہیں۔
اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ ڈی آئی خان میں ہونے والے حملے میں خواتین اور بچوں سمیت شہری جاں بحق ہوئے، جبکہ دہشتگردوں نے ریسکیو اہلکاروں کو بھی نشانہ بنایا۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق امان میلہ چیک پوسٹ پر حملے میں 12 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے، جبکہ حملے کے بعد امدادی ٹیموں کو بھی فائرنگ کا سامنا کرنا پڑا۔
طلال چوہدری نے دعویٰ کیا کہ حملے میں ملوث ایک دہشتگرد کی تصویر حاصل ہونے کے بعد اسے شناخت کے لیے متعلقہ نظام اور ریکارڈ سے چیک کیا گیا، تاہم فوری طور پر کوئی شناخت سامنے نہیں آسکی، اوپن سورس معلومات کی مدد سے مبینہ طور پر معلوم ہوا کہ مذکورہ دہشتگرد افغانستان کے دارالحکومت کابل کا رہائشی تھا۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگرد اکثر جعلی ناموں سے کارروائیاں کرتے ہیں اور حملوں کے بعد اپنے ساتھیوں کی تصاویر یا کارروائیوں کی فوٹیج سوشل میڈیا پر جاری کرتے ہیں۔
وزیر مملکت داخلہ نے الزام عائد کیا کہ افغانستان سے دہشتگردوں کی تشکیلیں پاکستان آتی ہیں اور ان میں بڑی تعداد ایسے افراد کی ہوتی ہے جو افغانستان کے رہائشی ہیں، پاکستان نے افغان حکام سے ڈوزیئرز، مذاکرات اور دیگر ذرائع سے رابطے کیے، تاہم ان کے بقول سرحد پار موجود دہشتگرد نیٹ ورکس کے خلاف مطلوبہ اقدامات نہیں کیے گئے۔







