تقریب میں اویس رؤف، فرخ شہباز وڑائچ، رانا سکندر حیات، سلمان غنی، عمران اعجاز، نجم مزاری، شمائلہ رانا، عظمیٰ کاردار اور حسن مرتضیٰ سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات، طلبہ و طالبات اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
پنجاب انسٹیٹیوٹ آف لینگویج، آرٹ اینڈ کلچر (پلاک) میں منعقدہ اس تصویری نمائش میں طلبہ و طالبات نے پاکستان اور بھارت کے درمیان معرکۂ حق کے اہم تاریخی لمحات کو فن پاروں کی صورت میں پیش کیا اور افواجِ پاکستان، حکومت اور قوم کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ملک احمد خان نے کہا کہ معرکۂ حق نے دنیا پر واضح کر دیا کہ پاکستان ایک مضبوط، خودمختار اور ناقابلِ تسخیر ریاست ہے۔ انہوں نے کہا کہ 10 مئی پاکستان کی تاریخ کا یادگار دن بن چکا ہے جب دنیا نے پاکستان کی عسکری، سفارتی اور قومی طاقت کو تسلیم کیا۔
انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف، سید عاصم منیر، افواجِ پاکستان، پاکستانی میڈیا اور پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ایک سال گزرنے کے باوجود اپنے الزامات کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہ کر سکا۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نے عالمی سطح پر پاکستان کا مقدمہ مؤثر انداز میں پیش کیا جبکہ دنیا نے پاکستان کے مؤقف کو سراہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مؤثر کردار نے قوم کے اعتماد کو مزید مضبوط کیا۔
ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جدید دفاعی اور الیکٹرانک جنگی صلاحیت نے بھارتی ڈرونز، ریڈار سسٹمز اور ایس-400 فضائی دفاعی نظام کو مؤثر انداز میں ناکام بنایا، جبکہ پاک فضائیہ نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت سے ثابت کیا کہ وطن کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے۔
صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے کہا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے، تاہم اگر بھارت نے دوبارہ جارحیت کی کوشش کی تو اسے پہلے سے زیادہ سخت جواب دیا جائے گا، پوری قوم اپنی قیادت اور افواجِ پاکستان کے ساتھ متحد کھڑی ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حسن مرتضیٰ نے کہا کہ پاکستان نے معرکۂ حق میں اپنے سے کئی گنا بڑے ملک کو مؤثر جواب دے کر دنیا کو اپنی طاقت کا احساس دلایا۔
چیئرمین پاکستان فیڈرل یونین آف کالمسٹ فرخ شہباز وڑائچ نے کہا کہ اس تاریخی کامیابی کے بعد پاکستان دنیا میں ایک نئی شناخت کے ساتھ ابھرا ہے اور عالمی سطح پر امن کے ضامن ملک کے طور پر سامنے آیا ہے۔






