اس فیصلے کے بعد پاکستان میں بجلی کی منڈی کو ایک باقاعدہ تجارتی نظام میں تبدیل کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

مارکیٹ آپریٹر نے نیپرا کو بتایا ہے کہ سی ٹی بی سی ایم کے نفاذ کے لیے تمام پیشگی شرائط پوری کر لی گئی ہیں۔ مارکیٹ مینجمنٹ سسٹم جون 2022 سے مکمل فعال ہے اور اس کے ذریعے ماہانہ بنیادوں پر سیٹلمنٹس کی جا رہی ہیں۔ روزانہ میرٹ آرڈر کے نفاذ میں بھی نمایاں پیشرفت ہوئی ہے جبکہ تمام تقسیم کار کمپنیاں رجسٹر ہو چکی ہیں۔ تاہم کے الیکٹرک اور نیشنل گرڈ کمپنی کی درخواستیں تاحال زیر التوا ہیں۔

نیپرا نے ہدایت دی ہے کہ کے الیکٹرک اور نیشنل گرڈ کمپنی اپنی رجسٹریشن کا عمل جلد مکمل کریں۔ اتھارٹی نے تمام ڈسکوز، کے الیکٹرک اور نیشنل گرڈ کمپنی کو ڈیِمڈ مارکیٹ پارٹسپنٹس قرار دیتے ہوئے تین ماہ کے اندر مارکیٹ آپریٹر کے ساتھ معاہدے دستخط کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔

فیصلے کے مطابق مارکیٹ آپریٹر کو ایک ماہ کے اندر ملک کے بڑے شہروں میں آگاہی مہم شروع کرنی ہوگی تاکہ صنعتی خریداروں، پاور جنریٹرز اور چیمبرز کو سی ٹی بی سی ایم کے اصولوں سے آگاہ کیا جا سکے۔ نیپرا نے شفافیت کو مارکیٹ کی کامیابی کے لیے بنیادی جزو قرار دیتے ہوئے ہدایت دی کہ مارکیٹ آپریٹر اپنی ویب سائٹ پر فائنل ٹیسٹ رن کے نتائج، سیٹلمنٹ اسٹیٹمنٹس اور گزشتہ دو برس کی مارجنل پرائسز شائع کرے۔

اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ مارکیٹ کے آغاز یعنی کمرشل آپریشن کی تاریخ اس وقت طے کی جائے گی جب یا تو نیپرا گرڈ چارجز کا تعین کرے یا وفاقی حکومت اسٹرینڈڈ کاسٹ فریم ورک کے تحت پالیسی گائیڈ لائنز جاری کرے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مارکیٹ آپریٹر اور سسٹم آپریٹر کے آئی ٹی سسٹمز محفوظ اور مکمل فعال ہیں۔ اگرچہ اسکاڈا سسٹم کی تنصیب میں تاخیر ہوئی ہے مگر اس کی عدم موجودگی مارکیٹ کے آغاز میں رکاوٹ نہیں بنے گی۔ نیپرا نے ہدایت دی ہے کہ آئی ایس ایم او دسمبر 2025 تک اسکاڈا سے متعلق تفصیلی رپورٹ جمع کرائے۔

اتھارٹی نے مزید کہا ہے کہ بجلی کے تقسیم کار نیٹ ورکس پر دستیاب ڈیٹا مارکیٹ سیٹلمنٹس کے لیے کافی ہے۔ بیلنس مارکیٹ کوڈ کو فوراً نافذ کیا جائے اور وزارت توانائی سے الوکیشن فیکٹرز کے تعین کے لیے فوری رابطہ کیا جائے۔

واضع رہے کہ نیپرا کے مطابق سی ٹی بی سی ایم کے نفاذ سے پاکستان میں بجلی کی منڈی ایک منظم، شفاف اور مسابقتی نظام میں داخل ہو جائے گی جس سے صارفین اور سرمایہ کار دونوں کو فائدہ پہنچے گا۔