یعنی پاکستان کو یورپ کی بہت ضرورت ہے، لیکن یورپ کو پاکستان کی زیادہ ضرورت نہیں ہے۔ یورپی یونین پاکستان کو GSP Plus کے تحت کم ٹیرف کی خصوصی سہولت دیتی ہے۔ سادہ الفاظ میں پاکستانی مصنوعات یورپ میں بہت کم ٹیکس پر جاتی ہیں جبکہ دوسرے ملکوں کو زیادہ ٹیکس دینا پڑتا ہے۔ اس سے پاکستانی چیزیں یورپی منڈی میں سستی بن جاتی ہیں۔ 2013 کے بعد سے یورپی یونین کو پاکستان کی برآمدات دگنی سے بھی زیادہ ہو چکی ہیں۔
لیکن اب کئی طرف سے ایک ساتھ اس ماڈل پر دباؤ آ رہا ہے۔ یورپی یونین اور بھارت کے درمیان تجارتی معاہدے کی بات چیت آگے بڑھ رہی ہے۔ اگر یہ معاہدہ ہوا تو بھارت کو بھی وہی سہولتیں مل جائیں گی جو ابھی پاکستان کو ملتی ہیں۔ اور بھارت کی ٹیکسٹائل انڈسٹری پاکستان سے تین گنا بڑی ہے۔
زیادہ فیکٹریاں، زیادہ مزدور، زیادہ پیداوار اور کم لاگت۔ یعنی اگر دونوں کو برابر سہولت ملی تو پاکستان مقابلہ نہیں کر پائے گا۔
یہ صرف بھارت کا معاملہ نہیں۔ بنگلہ دیش یورپی منڈی میں پاکستان سے پہلے سے آگے ہے۔ 2023 میں بنگلہ دیش نے یورپ کو 20 ارب ڈالر سے زیادہ کی ٹیکسٹائل برآمد کی جو پاکستان سے تقریباً دگنی ہے۔ ویتنام بھی تیزی سے آ رہا ہے۔ یہ سب وہی چیزیں بناتے ہیں جو پاکستان بناتا ہے اور اکثر پاکستان سے سستی بھی۔
سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کی 80 فیصد برآمدات صرف ٹیکسٹائل پر ہیں کپڑا، دھاگہ، تولیے، چادریں، جینز۔ یہ وہ چیزیں ہیں جو دنیا کے درجنوں ممالک بنا سکتے ہیں۔ اس میں نہ کوئی خاص ٹیکنالوجی چاہیے، نہ کوئی خاص مہارت اور اسی لیے اس میں منافع بھی سب سے کم ہے اور مقابلہ سب سے زیادہ۔
ایک اور مسئلہ جو کم زیر بحث آتا ہے — GSP Plus کی شرائط۔ یہ سہولت مفت نہیں ملتی۔ اس کے لیے پاکستان کو 27 بین الاقوامی معاہدوں پر عمل کرنا ہوتا ہے جن میں مزدوروں کے حقوق، ماحولیات اور انسانی حقوق شامل ہیں۔ یورپی یونین وقتاً فوقتاً جائزہ لیتی ہے اور اگر پاکستان ان شرائط پر پورا نہ اترے تو یہ سہولت واپس لی جا سکتی ہے۔ 2023 میں یورپی پارلیمنٹ میں پاکستان کی GSP Plus کی حیثیت پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔
پاکستان کے پاس اب بھی موقع ہے کہ وہ ٹیکسٹائل سے آگے بڑھ کر آئی ٹی، فارما، انجینئرنگ اور فوڈ پروسیسنگ جیسے شعبوں پر توجہ دے۔ کیونکہ یورپی منڈی میں مستقبل زیادہ برآمدات کا نہیں، بلکہ بہتر اور مکس برآمدات کا ہے۔






