ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف تین سے چار مرتبہ مذاکرات کی پیشکش کر چکے ہیں تاہم پی ٹی آئی نے بات چیت سے انکار کیا۔

خواجہ آصف نے کہا کہ اقتدار ایک عارضی چیز ہے، حکومت آج بھی مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن جواب میں گالیاں دی جاتی ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ادارے نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی انٹر سروسز انٹیلی جنس کا احتساب کیا اور اپنے ہی ادارے سے احتساب کے عمل کی ابتدا کا کریڈٹ موجودہ فوجی قیادت کو جاتا ہے۔