مغرب کے وقت جب اس کے چھوٹے بھائی گھر پہنچے تو دروازہ اندر سے بند ملا۔ متعدد بار آواز دینے اور دستک کے باوجود دروازہ نہ کھلا تو والد کو اطلاع دی گئی۔ والد کے پہنچنے پر ہمسایوں کی مدد سے چھت کے راستے گھر میں داخل ہو کر دروازہ کھولا گیا، جہاں طلحہ پنکھے کے کنڈے سے لٹکا ہوا پایا گیا۔

اہل خانہ کے مطابق نوجوان کو فوری طور پر نیچے اتارا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکا۔ ابتدائی طور پر واقعے کو خودکشی قرار دے کر تدفین کر دی گئی، لیکن اگلے روز غسل کے دوران مبینہ طور پر جسم پر تشدد کے نشانات دیکھے گئے۔ والدین کا دعویٰ ہے کہ گلے، کندھوں اور کمر پر واضح نشانات موجود تھے جو خودکشی کے بجائے کسی ممکنہ تشدد کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

والدین کے مطابق دباؤ اور قانونی پیچیدگیوں کے خدشات کے باعث فوری پوسٹ مارٹم نہ کرایا جا سکا، بعد ازاں انہوں نے پولیس اور عدالت سے رجوع کیا۔ تقریباً ایک سال تین ماہ بعد 17 فروری کو عدالتی حکم پر قبر کشائی کی گئی۔

اہل خانہ کا کہنا ہے کہ قبر کشائی کے دوران قبر میں لاش یا باقیات موجود نہ تھیں، جس نے معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ ان کے مطابق یہ ان کے لیے ایک اور صدمہ تھا کہ پہلے بیٹے کی موت اور پھر قبر خالی ملنے کا واقعہ برداشت کرنا پڑا۔

پاکستان میٹرز کے نامہ نگار فہد علی خان کو قبرستان کے گورکن نے بتایا کہ وہ شام تک موجود رہتا ہے اور اگر کوئی واقعہ پیش آیا تو وہ رات کے وقت ہوا ہوگا۔ اہل خانہ کا مؤقف ہے کہ قبرستان کے قریب پولیس چوکی اور 24 گھنٹے فعال اسپتال بھی موجود ہے، اس کے باوجود کسی کو کچھ معلوم نہ ہو سکا۔

محمد طلحہ کی والدہ نے پاکستان میٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا بیٹا خوش مزاج تھا، نہ کسی سے دشمنی تھی اور نہ ہی ذہنی دباؤ کا شکار تھا۔

ہمیں آج تک نہیں معلوم کہ ہمارے بیٹے کے ساتھ کیا ہوا۔ پہلے بیٹا کھویا، پھر قبر بھی خالی نکلی۔ ہم صرف انصاف چاہتے ہیں۔

طلحہ کے والد  نے وزیر اعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کر کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

طلحہ کی پراسرار  موت اب بھی معمہ بنی ہوئی ہے، جبکہ والدین انصاف کے منتظر ہیں۔