لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران رہنماؤں نے ویڈیو شواہد میڈیا کے سامنے پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ (ن) نے نشست انتخاب نہیں جیتی بلکہ اسے جتوایا گیا، جبکہ ان کے حمایت یافتہ امیدوار عثمان علیم کو واضح برتری حاصل تھی۔
رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ان کے امیدوار کو 61 پولنگ سٹیشنز کے فارم 24 فراہم نہیں کیے گئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ انتخابی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کی جائیں، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور ضرورت پڑنے پر اس حلقے میں دوبارہ انتخابات کرائے جائیں۔
پریس کانفرنس میں دانیال عزیز، مرکزی مسلم لیگ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل خالد نیگ گجر، مرکزی ترجمان ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی، پیر سید اعجاز الحسن شاہ، جنرل سیکرٹری عرفان مہیس، امیدوار عثمان علیم اور مسلم یوتھ لیگ کے صدر تابش قیوم شریک تھے۔
دانیال عزیز نے الزام عائد کیا کہ نارووال میں انتخابی عمل کے دوران سنگین بے ضابطگیاں ہوئیں۔ ان کے مطابق ووٹوں کی گنتی کے وقت پولنگ ایجنٹس کو زبردستی باہر نکال دیا گیا اور امیدواروں و انتخابی نمائندوں کو نتائج مرتب کرنے کے عمل سے دور رکھا گیا۔
انہوں نے کہا کہ فارم 45 سے فارم 47 تک کے مراحل شفاف انداز میں مکمل نہیں ہونے دیے گئے اور ان کے پاس ویڈیوز، فارم اور دیگر دستاویزی شواہد موجود ہیں، جو الیکشن کمیشن کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔
دانیال عزیز نے مزید کہا کہ پارٹی کی جانب سے پہلے بھی شکایات جمع کرائی گئیں، تاہم ان پر مؤثر کارروائی نہیں ہوئی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوامی مینڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے انتخابی نتائج سے متعلق تحفظات کا غیرجانبدارانہ جائزہ لیا جائے، ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے اور اگر ضروری ہو تو متعلقہ حلقے میں دوبارہ شفاف انتخابات کرائے جائیں۔
مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی نے کہا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات کے دوسرے مرحلے کے دوران نارووال میں بڑے پیمانے پر انتخابی بے ضابطگیاں ہوئیں، جن کے مضبوط شواہد ان کے پاس موجود ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پریس کانفرنس میں سات منٹ پر مشتمل ایک ویڈیو بھی دکھائی گئی، جس میں مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں کے ثبوت پیش کیے گئے۔
ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی کے مطابق متعدد پولنگ سٹیشنز پر پولیس نے پولنگ ایجنٹس کو ووٹوں کی گنتی سے قبل باہر نکال دیا، جبکہ پولنگ کے دوران بھی پولیس کی موجودگی میں مبینہ غیرقانونی سرگرمیاں جاری رہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی پریس کانفرنس میں بھی ایسی ویڈیوز سامنے آئی ہیں جن میں مبینہ طور پر جعلی انتخابی مواد، مہریں اور دیگر شواہد دکھائے گئے تھے۔
مرکزی مسلم لیگ کی قیادت نے کہا کہ وہ قانونی اور آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے ہر فورم پر اپنے مؤقف کا دفاع کرے گی اور انتخابی عمل کی شفافیت کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔






