مارچ میں لاہور سے بڑی تعداد میں مرد وخواتین شریک ہیں۔ مارچ کے شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ فلسطینی بچوں سے اظہار یکجہتی کے لیے بڑی تعداد میں بچے بھی شریک۔ پلے کارڈز پر مختلف نعرے درج تھے۔


امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سینیٹر مشتاق احمد کی رہائی کے لیے امریکا سے بات کرے، تمام یرغمالیوں کو بازیاب کروایا جائے، صمود فلوٹیلا نے جمود توڑدیا ہے۔


ان کا کہنا تھا کہ 1947 میں حماس موجود نہیں پھر بھی فلسطین پر ظلم و بر بریت ہو رہی تھی، دو سال سے فلسطینی شہید ہو رہے ہیں ، ن لیگ نے کتنے احتجاج کیے ہیں ؟ تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی نے کتنے احتجاج کیے، یہ سب امریکی سامراج کا حصہ ہیں۔


انہوں نے کہا ہے کہ جیل سے سارے ٹویٹ ہو سکتے ہیں، لیکن نیتن یاہو اور اسرائیل کے خلاف ٹویٹ نہیں ہو سکتا، حکمرانوں نے اپنا کردار ادا نہیں کیا ، عوام جلد انہیں دھتکارے گی، جو فلسطین اور حماس کے حق میں کھڑا ہے وہ ہمارے ماتھے کا جھومرہیں۔


میرے بہنوں اور بھائیوں یہ حکمران ٹرمپ اور نیتن یاہو کے ظلم و بربریت کے خلاف نہیں بات کر رہے ، آپ ان کے خلاف ڈٹ جائیں، میں حماس کو سلام پیش کرتا ہوں ان کی دور اندیشی کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، حماس نے اپنے جواب میں ہتیار نہیں ڈالے ، برابری کی سطح پر بات ہوگی، حماس کے جواب میں کہا کہ اسرائیل بمباری بند کردیں۔


انہوں نے کہا ہے کہ دہشتگردی جاری ہے آج بھی سینکڑوں فلسطینی شہید ہو گئے ہیں، حماس کے بغیر فلسطین کا کوئی وجود نہیں، ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ دنیا میں مزاحمت زندہ ہے، حماس کا نظم  و ضبط مثالی ہے، حماس اندر بھی موجود ہے اور باہر بھی ، دونوں طرف سے مذاکرات جاری ہیں۔ نوجوانوں کوئی بھی جدو جہد نظم وضبط کے بغیر کامیاب نہیں ہوتی۔


میں اپنی حکومت کو کہنا چاہتا ہوں کہ دو ریاستی حل بلکل مذاق ہے، حکومت کو چاہیے کے مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہونا چاہیے، شہباز شریف کو ڈونلڈ ٹرمپ کا ایجنڈا مسترد کرنا چاہیے، فارم 47 والی پارلیمنٹ میں ہی فلسطین کی بات کرلیں۔

مزید پڑھیں: ڈی جی آئی ایس پی آر کی پچاس معروف صحافیوں سے ملاقات: ’پاکستان کسی صورت اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا۔‘

انہوں نے کہا ہے کہ جب بھی اپنا موقف پیش کریں ایک ریاست اور وہ بھی فلسطین کی بات کریں، اگر کسی نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی کوشش کی تو یہ قوم آپ کو عبرت کا نشان بنا دے گی، یہ نہتے لوگ طاقت کا مقابلہ کرے گی۔


امریکا نے آپ کو بھوک دی ہے ننگ دی ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں دیا، کسانوں کو مہنگی ڈی اے پی ملے گی تو معیشت کیسے مظبوط ہوگی، شہباز شریف غلط پوزیشن پر کھڑا ہے، آپ غلط طریقہ اختیار کر رہے ہیں۔


سینٹر مشتاق اس وقت اسرائیلی قید میں ہیں ، وزیراعظم اگر ڈائریکٹ اسرائیل سے بات نہیں کر سکتے تو ٹرمپ تو موجود ہیں، اقوام متحدہ تو ہے ان کے زریعے بازیاب کروائیں، کل 7 اکتوبر ہے گھروں سے باہر نکلیں اور مزاحمت کا حصہ بنیں، ہمیں ان قابضین سے جلد قبضہ چھڑوانا ہے۔


اکیس نومبر سے مینار پاکستان کے سائے میں پورا پاکستان اکھٹا ہوگا، میں آپ سب کو دعوت دیتا ہوں، اگر اسٹیبلشمنٹ کسی ایک کہ سر پر ہاتھ رکھ دے تو اسٹیبلشمنٹ زندگی باد ہو جاتی ہے، اسٹیبلشمنٹ کسی کے سر سے ہاتھ اٹھا لے تو اسٹیبلشمنٹ مردہ باد ہو جاتی ہے۔