انہوں نے کہا کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز ایک شاندار اور بے مثال ادارہ تھا جو پاکستان کا فخر سمجھا جاتا تھا اور کئی بین الاقوامی ایئرلائنز کو سپورٹ بھی فراہم کرتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ جن لوگوں نے اپنی نااہلی، بدترین گورننس، سیاسی بھرتیوں اور غلط انتظامی فیصلوں سے ادارے کو تباہ کیا، وہی آج اسے کوڑیوں کے بھاؤ بیچ کر مبارک سلامت کا شور مچا رہے ہیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے سوال اٹھایا کہ کیا پی آئی اے کی تباہی کے ذمہ داروں کا تعین نہیں ہونا چاہیے اور کیا ان کا احتساب نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال حکمرانوں کی بدترین ذہنیت کی عکاس ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ نجکاری کمیشن کے ساتھ ساتھ ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیشن بھی بنایا جائے جو ان تمام کرداروں اور چہروں کی نشاندہی کرے جنہوں نے پی آئی اے سمیت دیگر منافع بخش قومی اداروں کو تباہ کر کے پاکستان کو ہزاروں ارب روپے کا نقصان پہنچایا۔