مظفرآباد کے سینٹرل پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کے رہنماؤں نے کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی سرگرمیوں سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آٹے اور بجلی پر سبسڈی کے بنیادی مطالبات پورے ہونے کے بعد تحریک کا رخ دیگر آئینی معاملات کی طرف موڑ دیا گیا، جس کی وہ حمایت نہیں کرتے۔
مرکزی انجمن تاجران کے وائس چیئرمین گوہر کشمیری نے کہا کہ حکومت پاکستان اور آزاد کشمیر حکومت کی جانب سے 72 ارب روپے کی سبسڈی دیے جانے کے بعد تحریک کا بنیادی مقصد حاصل ہو چکا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ تاجروں سے مشاورت کے بغیر مہاجرین کی نشستوں جیسے معاملات چارٹر آف ڈیمانڈ میں شامل کیے گئے، جس سے تحریک کی سمت تبدیل ہو گئی۔
صدر انجمن تاجران مدینہ مارکیٹ راجہ ابرار مصطفی نے کہا کہ مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ احتجاج یا دھرنوں کے بجائے قانون ساز اسمبلی میں حل ہونا چاہیے۔ انہوں نے راولاکوٹ میں مبینہ طور پر لگنے والے پاکستان مخالف نعروں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سے صرف دشمن قوتوں کو فائدہ پہنچے گا۔
صدر ٹرانسپورٹ آپریٹرز یونین مظفرآباد ڈویژن خواجہ اعظم رسول نے واضح کیا کہ ٹرانسپورٹرز کبھی بھی حکومت یا افواجِ پاکستان مخالف کسی سرگرمی کا حصہ نہیں بنیں گے۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی ایسے ایجنڈے سے دور رہیں جو خطے کے مفاد کے خلاف ہو۔
تاجر رہنماؤں نے تمام دکانداروں سے اتوار سے کاروبار معمول کے مطابق بحال کرنے کی اپیل کی، جبکہ انتظامیہ نے بھی شہر میں امن و امان برقرار رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
دوسری جانب کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما شوکت نواز میر کے فیس بک پیج پر جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ بعض تاجر رہنماؤں کے گھروں پر چھاپے مارے گئے اور انہیں بیانات دینے پر مجبور کیا گیا، تاہم اس دعوے کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
ادھر راولاکوٹ میں دھرنا جاری ہے، کرفیو نافذ ہے جبکہ انٹرنیٹ سروس کئی ہفتوں سے بند اور موبائل فون سروس جزوی طور پر معطل ہے۔ حکومت پہلے ہی عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی عائد کر چکی ہے اور اس کے متعدد رہنماؤں کی گرفتاری کے لیے انعام کا اعلان بھی کیا جا چکا ہے۔
دوسری جانب ایندھن کی قلت بھی شہریوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ وادی نیلم سمیت مختلف علاقوں میں پیٹرول کی شدید کمی کے باعث بلیک مارکیٹ میں فی لیٹر قیمت 500 سے 800 روپے تک پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ حکومت نے خوراک اور ایندھن کی ترسیل میں رکاوٹوں سے متعلق بعض دعوؤں کی تردید کی ہے۔
حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات بھی تعطل کا شکار ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ مطلوب رہنما پہلے قانون کے سامنے پیش ہوں، جس کے بعد مذاکرات کیے جائیں گے، جبکہ ایکشن کمیٹی حکومت سے 5 جون کے بعد کیے گئے تمام اقدامات واپس لینے کا مطالبہ کر رہی ہے۔
کشمیر کی موجودہ صورتحال پر اسلام آباد میں بھی سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ مختلف سیاسی رہنماؤں نے بحران کے حل کے لیے مذاکرات اور ثالثی پر زور دیا ہے، تاہم تاحال کسی باضابطہ پیش رفت کا اعلان سامنے نہیں آیا۔






